وینس کا ایران کو خط، ٹرمپ کی تردید: امن مذاکرات پر نیا تنازع

0

تہران نے تصدیق کی ہے کہ اسے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہوا ہے، تاہم ابھی اس کا جواب نہیں دیا گیا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ انہوں نے وینس کو ایران سے امن مذاکرات بحال کرنے کی ہدایت دی تھی — ٹرمپ کے مطابق یہ رابطہ طبی سامان کی فراہمی کے بارے میں تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطری ثالث جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی کوششوں کے سلسلے میں دوبارہ تہران پہنچے ہیں۔

خط میں کیا کہا گیا — میڈیا رپورٹس

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ “ایران کو خط موصول ہوا ہے، لیکن ابھی جواب نہیں دیا گیا”، جب کہ فارس نیوز ایجنسی نے بھی ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے اسی طرح کی خبر دی۔ وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز نے بدھ کو امریکی حکام اور معاملے سے باخبر افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ وینس نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو خط بھیجا تھا، جس کا مقصد امن مذاکرات بحال کرنا اور نئے امریکی حملوں سے بچنا تھا۔ جرنل کے مطابق خط اور اس کے بعد امریکی و ایرانی حکام کے درمیان رابطوں میں کسی امن معاہدے کی مخصوص شرائط کے بجائے مذاکرات کے ممکنہ فریم ورک پر توجہ مرکوز تھی۔

ٹرمپ کا موقف

صحافیوں کے سوال پر کہ کیا انہوں نے وینس کو ایران سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے رابطہ کرنے کی ہدایت دی تھی، ٹرمپ نے کہا: “نہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ طبی سامان اور مختلف چیزوں میں مدد کے بارے میں تھا، اور ایران کو بیمار لوگوں کی مدد کے لیے سامان پہنچانا مقصود تھا۔ ایران کے اقوام متحدہ میں مشن اور وینس کے دفتر نے اس بارے میں تبصرے کی درخواستوں پر فوری جواب نہیں دیا۔ ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کو شہریوں تک طبی سامان کی رسائی میں رکاوٹ قرار دیتا رہا ہے۔

تہران کا موقف اور سات شرائط

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران ثالثوں، خاص طور پر قطر اور پاکستان، کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے منصوبے پر بات کر رہا ہے۔ تہران کا اصرار ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے پہلے واشنگٹن کو اس کی سات شرائط پوری کرنا ہوں گی، جن میں مشرق وسطیٰ بھر میں جنگ بندی، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی، اس کے تیل کے شعبے پر پابندیوں کا خاتمہ اور امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔ تسنیم کے مطابق ایران کا کوئی بھی ایسا موقف ناقابل قبول ہے جو اس کے طے شدہ فریم ورک کو کمزور کرے۔

قطری ثالثوں کی تہران واپسی

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار نے بتایا کہ قطری ثالث جمعہ کو تہران واپس پہنچے ہیں۔ قطر نے اتوار کو ایران کو امن منصوبے کا ایک نیا مسودہ پیش کیا تھا، لیکن ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے ان تجاویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی پیشکش کے مترادف نہیں۔ رپورٹ کے مطابق قطری تجویز میں دونوں فریقوں کے خدشات دور کرنے کے لیے سات روزہ ٹائم لائن رکھی گئی ہے، جس میں ہر فریق کے لیے روزانہ اعتماد سازی کے اقدامات اور کئی ممالک بطور ضامن شامل ہیں، اور یہ ٹائم لائن آئندہ ہفتے کے اوائل میں شروع ہو سکتی ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ جوہری امور مذاکرات کے آغاز ہی سے شامل ہوں، جب کہ تہران مطالبہ کرتا ہے کہ امریکا پہلے بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں اٹھائے۔

جنگ کا پس منظر

ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ جنگ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی تھی، جن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور سینئر فوجی کمانڈر مارے گئے تھے۔ ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی تنصیبات پر حملوں سے جواب دیا، جب کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی عائد کر دی۔ آبنائے ہرمز، جس سے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، اس کشیدگی کا مرکزی نقطہ بنا ہوا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ امریکی حکام نے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک اور علاقائی اتحادیوں کو 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے، تاہم ٹرمپ نے نئے حملوں کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا۔

اس سے پہلے ایران کا 7 روزہ امن منصوبہ اور ایران حملہ آپشن پر ٹرمپ کو سینٹ کام بریفنگ کی خبریں بھی پڑھیں۔

ذرائع: ڈان، ہاریٹز/روئٹرز، چائنا ڈیلی، ٹریبیون انڈیا — 30 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *