بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری
دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے تقریباً 6.3 ارب ڈالر کی رقم چوری ہو گئی ہے، جسے کرپٹو کی تاریخ کا سب سے بڑا ہیک قرار دیا جا رہا ہے۔ بائنانس نے جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو جاری بیان میں تصدیق کی کہ اس سیکیورٹی واقعے کا مجموعی اثر تقریباً 6.3 ارب ڈالر بنتا ہے، جب کہ اب تک تقریباً 3 ارب ڈالر کے اثاثے بلاک چین پارٹنرز کی مدد سے منجمد کیے جا چکے ہیں۔
بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ نے اس سے قبل کہا تھا کہ واقعہ بظاہر ایکسچینج پر ہیک لگتا ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ تمام نقصانات پورے کرے گی اور صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں۔
20 منٹ میں اربوں ڈالر کیسے نکلے
بلاک چین تجزیاتی فرم ٹی آر ایم لیبز کے مطابق، حملہ آور نے جمعرات کی دوپہر امریکی مشرقی وقت کے مطابق تقریباً 4 بج کر 10 منٹ سے شروع ہو کر محض 20 منٹ کے اندر تقریباً 6.36 ارب ڈالر دس مختلف بلاک چینز پر منتقل کیے۔ اس رقم میں تقریباً 18,270 بٹ کوائن (تقریباً 1.47 ارب ڈالر)، دو لاکھ سے زائد ایتھیریم اور اربوں ڈالر کے اسٹیبل کوائن شامل تھے۔
بائنانس کی ابتدائی تحقیق کے مطابق، حملے کا راستہ کسی ڈویلپر کے لیپ ٹاپ سے نکلا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک ڈیو اوپس انجینئر کے سمجھوتہ شدہ لیپ ٹاپ تک رسائی حاصل کر کے حملہ آور ایک سروس کنٹینر تک پہنچا، جہاں سے غیر مجاز نکاسی کی درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ بائنانس نے یہ بھی کہا ہے کہ اسے کسی والٹ کی پرائیویٹ کی کے لیک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے، اور مکمل تکنیکی رپورٹ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔
صارفین کے پیسے کا کیا ہوگا
واقعے کے بعد بائنانس نے عارضی طور پر ڈپازٹس اور نکاسی معطل کر دی۔ کمپنی کے شریک بانی یی ہی نے کہا ہے کہ نکاسی تقریباً 48 گھنٹوں کے اندر بحال ہونے کی توقع ہے، جب کہ بعد کی رپورٹس کے مطابق ڈپازٹس دوبارہ کام کرنا شروع ہو گئے ہیں۔
بائنانس کے شریک سی ای او رچرڈ ٹینگ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ “آپ کا پیسہ محفوظ ہے، اور ہم ہر نقصان پورا کریں گے۔” کمپنی کے مطابق، نقصانات سیفٹی فنڈ (SAFU) اور کمپنی کے اپنے فنڈز سے پورے کیے جائیں گے۔ منجمد کی گئی رقم میں ٹیتھر اور سرکل کی جانب سے منجمد کیے گئے 2.3 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے بھی شامل ہیں۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک نکاسی مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتی، صارفین اپنی رقم ایکسچینج سے باہر نہیں نکال سکتے، اور صارفین کو صرف بائنانس کے سرکاری اعلانات پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اب تک یہ اعلان نہیں کیا گیا کہ کتنے صارفین متاثر ہوئے ہیں، اور پاکستانی صارفین کے متاثر ہونے کے بارے میں کوئی مصدقہ تعداد سامنے نہیں آئی ہے۔
شمالی کوریا کا الزام — مگر بائنانس نے نام نہیں لیا
ٹی آر ایم لیبز اور چینالیسس نے “اعلیٰ اعتماد” کے ساتھ اس حملے کو شمالی کوریا کے ہیکنگ یونٹ ٹریڈر ٹریٹر سے منسوب کیا ہے، جس کا تعلق لازارس گروپ سے بتایا جاتا ہے۔ ٹی آر ایم کا کہنا ہے کہ اس حملے کی کئی خصوصیات فروری 2025 میں بائی بٹ پر ہونے والے 1.5 ارب ڈالر کے ہیک سے ملتی ہیں، جس کا ذمہ دار بھی ٹریڈر ٹریٹر کو قرار دیا گیا تھا۔
یہ منسوب کرنا تجزیاتی فرموں کی رائے ہے، نہ کہ بائنانس یا کسی حکومت کا مصدقہ نتیجہ۔ بائنانس نے خود کسی حملہ آور کا نام نہیں لیا ہے، اور شمالی کوریا ماضی میں اس طرح کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ کمپنی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بلاک چین انٹیلیجنس پارٹنرز کو رقم کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے لیے شامل کر لیا ہے۔
مارکیٹ پر اثر اور پچھلا ریکارڈ
ہیک کی خبر کے بعد بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 5 فیصد گر کر 76,368 ڈالر تک آ گئی، جو چھ ہفتوں کی کم ترین سطح تھی، جب کہ ایتھیریم 3 فیصد سے زیادہ گر کر 2,178 ڈالر پر آ گیا۔ بعد میں بٹ کوائن دوبارہ 77,000 ڈالر سے اوپر آ گیا۔
یہ چوری پچھلے ریکارڈ سے چار گنا بڑی ہے۔ فروری 2025 میں بائی بٹ سے 1.5 ارب ڈالر چوری ہوئے تھے، جو اس وقت سب سے بڑا کرپٹو ہیک تھا۔ ٹی آر ایم کی 2026 کرپٹو کرائم رپورٹ کے مطابق، 2025 میں تقریباً 150 ہیکنگ واقعات میں مجموعی طور پر 2.87 ارب ڈالر کے کرپٹو اثاثے چوری ہوئے تھے — یعنی بائنانس کا ایک واقعہ اس پورے سال کے اعداد سے دو گنا سے زیادہ ہے۔
بائنانس 2017 میں قائم ہوئی تھی اور کوائن مارکیٹ کیپ کے مطابق اس کے زیر انتظام اثاثے تقریباً 155 ارب ڈالر ہیں، جو کسی بھی ایکسچینج سے زیادہ ہیں۔ اسی لیے اس واقعے نے عالمی کرپٹو مارکیٹ میں اعتماد کے سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، اور اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ نکاسی کب مکمل بحال ہوتی ہے اور چوری شدہ رقم میں سے کتنی واپس ملتی ہے۔
مزید پڑھیں: بٹ کوائن کی قیمت 83,500 ڈالر کے قریب (https://niazitvnews.com/?p=1220) اور پاکستان میں بھی چیٹ جی پی ٹی پر اشتہارات (https://niazitvnews.com/?p=1249)۔
ماخذ: الجزیرہ، رائٹرز کے حوالے سے پی وائی ایم این ٹی ایس، بزنس ورلڈ/بلومبرگ اور اکنامک ٹائمز کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔