متنی میں سی ٹی ڈی آپریشن: 5 دہشت گرد ہلاک

0

پشاور کے نواحی علاقے متنی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سیکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشن میں 5 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ یہ کارروائی بدھ کی رات متنی تھانے کی حدود میں آزاخیل روڈ پر آخون بابا قبرستان کے علاقے میں کی گئی، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

ڈان کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، پولیس ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں گھات لگائی، جس کے بعد تقریباً 30 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ فائرنگ رکنے کے بعد سرچ آپریشن کیا گیا، جس میں 5 دہشت گردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

ہلاک ہونے والے کون تھے

پولیس ذرائع کے مطابق، ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں سے تین کا تعلق مریم زئی کے علاقے سے تھا، جب کہ ایک ایک کا تعلق سرہ خورہ اور متنی سے تھا۔ یہ تمام علاقے متنی تھانے کی حدود میں آتے ہیں۔

ایس پی صدر ڈویژن فدا حسین نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تمام دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے اور ان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حذیفہ گروپ سے تھا۔ ایس پی کے مطابق، یہ گروپ کالعدم تنظیم کے سلمان صدیقی گروپ کے تحت کام کرتا تھا، جو علاقے میں دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں۔

آپریشن سے کیا برآمد ہوا

آپریشن کے بعد سرچ کے دوران سیکیورٹی ٹیموں نے ایک راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ، ایک سب مشین گن، پستول اور گولیاں برآمد کیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ اسلحہ اس بات کی علامت ہے کہ گروپ کسی بڑی کارروائی کی تیاری میں تھا، تاہم اس حوالے سے حتمی تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، آپریشن میں سیکیورٹی اہلکاروں کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ علاقے میں آپریشن کے بعد بھی سیکیورٹی کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

متنی اور پشاور کے نواح میں سیکیورٹی صورتحال

متنی پشاور شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور یہ علاقہ ماضی میں بھی دہشت گردوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے حساس رہا ہے۔ ڈان کی رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ 19 اکتوبر کو اڈیزئی کے علاقے سے چھ لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پشاور کے نواحی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گرد گروپوں کے درمیان کشیدگی مسلسل جاری ہے۔

واضح رہے کہ متنی میں 19 اکتوبر کو ہونے والا آپریشن ایک الگ کارروائی تھی، جس میں چھ دہشت گردوں کی ہلاکت کی خبر آئی تھی۔ بدھ کی رات کا آپریشن اس سے الگ ہے، جس میں پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ دونوں واقعات کو ایک نہ سمجھا جائے۔

اس کارروائی کی اہمیت

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، متنی جیسے نواحی علاقوں میں بروقت کارروائیاں شہر کے اندر دہشت گرد حملوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اطلاع پر مبنی یہ آپریشن بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس میں گھات لگا کر دہشت گردوں کو اسلحہ سمیت نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید مشتبہ افراد کی تلاش اور گروپ کے نیٹ ورک کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں، اور اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: خاران میں ڈرون حملہ ناکام: 5 ڈرون مار گرائے گئے (https://niazitvnews.com/?p=2787) اور انگور اڈا: پاک فوج نے افغان طالبان کی چوکیاں تباہ کر دیں (https://niazitvnews.com/?p=2327)۔

ماخذ: ڈان کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹ اور دوسری خبر رساں رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *