بلوچستان میں 72 ڈاکٹرز برطرف، غیر حاضری پر کارروائی
بلوچستان کے محکمہ صحت نے ڈیوٹی سے طویل غیر حاضری پر صوبے کے 72 ڈاکٹرز کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ ڈیلی قدرت کی 30 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن (بیڈا) ایکٹ 2011 کی دفعہ 4(بی)(8) کے تحت برطرفی کی بڑی سزا عائد کی گئی ہے، اور یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔
کون سے ڈاکٹرز برطرف ہوئے
رپورٹ کے مطابق برطرف کیے گئے ڈاکٹرز میں گریڈ 17 کے میڈیکل آفیسرز اور گریڈ 18 کے سینئر میڈیکل آفیسرز شامل ہیں۔ یہ ڈاکٹرز صوبے کے مختلف اضلاع کے مقامی اور ڈومیسائل رکھنے والے بتائے گئے ہیں، جن میں کوئٹہ، پشین، کچھی، بولان، خضدار، سبی، تربت، مستونگ، قلات، گوادر، قلعہ عبداللہ، لورالائی، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی، آواران، جعفر آباد، کوہلو، لسبیلہ، کیچ، زیارت، پنجگور اور نوشکی شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن پر سیکریٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمان کے دستخط ہیں اور اسے مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بعد جاری کیا گیا۔
وزیر صحت کا موقف: غفلت برداشت نہیں
صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے حکومتی اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر محکمہ صحت کے نظام میں بہتری اور اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کسی بھی صورت میں طبی عملے کی غیر حاضری اور فرائض میں غفلت برداشت نہیں کرے گی، اور صحت کی سہولتیں عوام کی دہلیز تک پہنچانا حکومت کا وعدہ ہے۔ وزیر صحت نے واضح کیا کہ عوام کی خدمت میں کوتاہی کرنے والوں کے خلاف کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی۔
طبی حلقوں کی تنقید: سہولتوں کا فقدان
دوسری جانب عوامی اور طبی حلقوں کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت دور دراز اضلاع کے اسپتالوں میں ادویات، بنیادی ڈھانچہ، مشینری اور محفوظ ماحول فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، اور اسپتالوں کی ویرانی اور انتظامی بدانتظامی کا سارا بوجھ ڈاکٹرز پر ڈال کر اپنی نااہلی چھپانے کے لیے یکطرفہ برطرفیاں کی جا رہی ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق اس اقدام سے صوبے کے دیہی علاقوں میں طبی عملے کی شدید کمی اور صحت کے بحران میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔
پس منظر: بلوچستان میں ڈاکٹرز کی غیر حاضری کا پرانا مسئلہ
بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں ڈاکٹرز کی غیر حاضری کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ ماضی میں بھی اسی نوعیت کی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں؛ ڈان کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی مسلسل غیر حاضری پر درجنوں کنٹریکٹ ڈاکٹرز کو برطرف کیا گیا تھا۔ صوبے میں بنیادی صحت مراکز کے لیے بھرتی کیے گئے طبی عملے کی حاضری یقینی بنانا انتظامیہ کے لیے ایک مستقل چیلنج رہا ہے، جبکہ ڈاکٹرز تنظیمیں سہولتوں اور سیکیورٹی کے فقدان کو غیر حاضری کی بڑی وجہ قرار دیتی رہی ہیں۔
یہ رپورٹ تاحال ایک ذریعے سے سامنے آئی ہے اور اس نوٹیفکیشن کی دوسرے بڑے ذرائع سے آزاد تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی ہے، اس لیے اس خبر میں تمام تفصیلات رپورٹ کے حوالے سے بیان کی گئی ہیں۔
صحت کے شعبے میں اس سے پہلے وفاق کے اسپتالوں میں سہولتیں بہتر بنانے کی وزیراعظم کی ہدایت (https://niazitvnews.com/?p=1149) اور کراچی میں پولیو کیس کے بعد سندھ حکومت کے ہنگامی اجلاس (https://niazitvnews.com/?p=1342) کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں۔
ذرائع: ڈیلی قدرت (کوئٹہ)، 30 اکتوبر 2026؛ پس منظر: ڈان، 2019۔