یوکرین کو 500 پیٹریاٹ میزائل، 2.1 ارب ڈالر کی منظوری
امریکی محکمہ خارجہ نے یوکرین کو 500 پیٹریاٹ پی اے سی 3 انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جن کی مجموعی مالیت 2.1 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ دوسری ٹرمپ انتظامیہ کے آغاز کے بعد سے کیف کو دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی کا ایک انتہائی اہم قدم ہے۔ یہ منظوری جمعہ 30 اکتوبر کو دی گئی، جب یوکرین روسی میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف اپنے فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ادائیگی کون کرے گا
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق یوکرین ان میزائلوں کی ادائیگی کینیڈا، جرمنی اور ناروے کے تعاون سے کرے گا، جو امریکا کے “جمپ اسٹارٹ” پروگرام کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ یورپی یونین کے یوکرین سپورٹ لون سے حاصل ہونے والے قومی فنڈز بھی استعمال ہوں گے۔ جمپ اسٹارٹ پروگرام اتحادی ممالک کے عطیات سے یوکرین کے لیے ہتھیار، خدمات اور تربیت خریدتا ہے۔ اسی پروگرام کے تحت اگست میں 825 ملین ڈالر مالیت کے 3 ہزار 350 فضا سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائل بھی خریدے گئے تھے۔
میزائل کب ملیں گے
رائٹرز کے مطابق یوکرین کو یہ میزائل فوری طور پر نہیں ملیں گے۔ ہتھیاروں کی فروخت کی تکمیل میں عام طور پر برسوں لگ جاتے ہیں، اور فیصلے سے باخبر دو ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ میزائل ابھی تیار بھی نہیں ہوئے اور ان کی فراہمی 2030 کی دہائی کے ابتدائی چند برسوں تک متوقع نہیں ہے۔ اس کے باوجود کیف کے لیے یہ منظوری علامتی اور اسٹریٹجک دونوں لحاظ سے اہم ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی یوکرین کے فضائی دفاع کی طویل مدتی حمایت جاری رکھیں گے۔
پیٹریاٹ نظام کیوں اہم ہے
پیٹریاٹ نظام دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں میں سے ایک ہے جو بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور جنگی طیاروں کو روک سکتا ہے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بارہا کہا ہے کہ انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی ان کے ملک کے دفاع کی سب سے بڑی کمزوری ہے، اور انہوں نے اتحادیوں سے فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاہدے میں لاک ہیڈ مارٹن مرکزی ٹھیکیدار ہوگا۔
یوکرین جنگ کا تازہ پس منظر
یہ منظوری ایسے وقت میں آئی ہے جب یوکرین جنگ اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے اور روس کے حملے جاری ہیں۔ گزشتہ دنوں یوکرین نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا تھا، جس کی تفصیل اس رپورٹ میں موجود ہے: https://niazitvnews.com/?p=2828
دوسری جانب یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ہفتے کو ترکیہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے صدر ایردوان سے جنگ اور بحیرہ اسود کی سیکیورٹی پر بات چیت کی: https://niazitvnews.com/?p=2862
ماخذ: رائٹرز، 30 اکتوبر 2026؛ جیروسلم پوسٹ، 30 اکتوبر 2026۔