ایس ایم ای قرض اب صرف SMEConnect سے: آج سے نیا نظام
آج یکم نومبر 2026 سے پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے بینک قرض کی درخواست کا نظام مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ اب ایس ایم ای فنانسنگ کی تمام درخواستیں صرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نئے ڈیجیٹل پورٹل SMEConnect کے ذریعے جمع ہوں گی، اور بینک کی برانچ یا ویب سائٹ پر جانے والے درخواست گزاروں کو بھی اسی پورٹل پر بھیجا جائے گا۔
SMEConnect کیا ہے
SMEConnect اسٹیٹ بینک کا مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جسے 29 اکتوبر 2026 کو لانچ کیا گیا۔ اس پورٹل کے ذریعے چھوٹے کاروبار بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں (ڈی ایف آئیز) سے قرض کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ پورٹل انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، اور اس پر درخواست کا طریقہ کار، اہلیت کے معیار اور متعلقہ اداروں کے لنکس بھی موجود ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے سرکلر ایس ایچ اینڈ ایس ایف ڈی سرکلر نمبر 08 برائے 2026 کے مطابق یکم نومبر 2026 سے ایس ایم ای فنانسنگ کی تمام درخواستیں SMEConnect پر جمع ہوں گی، اور ضروری تصدیق کے بعد درخواست گزار کے منتخب کردہ بینک یا ڈی ایف آئی کو بھیجی جائیں گی۔ اسی تاریخ سے پرانا ضابطہ آر-6 بھی ختم کر دیا گیا ہے جس کے تحت ہر بینک کو اپنی ویب سائٹ پر ڈیجیٹل درخواست کی سہولت دینا لازم تھی۔ اب ایک ہی پورٹل اس کی جگہ لے گا۔
درخواست کا طریقہ کار
SMEConnect پر درخواست دینے کا طریقہ سادہ رکھا گیا ہے۔ درخواست گزار پہلے پورٹل smeconnect.sbp.org.pk پر اکاؤنٹ بناتا ہے، پھر اپنے کاروباری بینک اکاؤنٹ کی تصدیق کرتا ہے، کاروبار کی تفصیلات درج کرتا ہے اور اپنے منتخب بینک کو فنانسنگ کی درخواست بھیجتا ہے۔ رجسٹریشن کے لیے نام، موبائل نمبر، ای میل، شناختی کارڈ نمبر اور پاس ورڈ درکار ہوتا ہے، جبکہ کاروباری تفصیلات میں این ٹی این، کاروبار کی نوعیت، پتہ، قیام کا سال اور سالانہ فروخت شامل ہے۔ درخواست کے فارم میں اسلامی فنانسنگ کا آپشن بھی موجود ہے۔ پورٹل پر درخواست دینے کی کوئی فیس درج نہیں، اور درخواست دینے کا مطلب منظوری کی ضمانت نہیں — حتمی فیصلہ بینک اپنی جانچ کے بعد کرتا ہے۔
ریئل ٹائم ٹریکنگ اور مسترد ہونے کی وجہ
SMEConnect کی سب سے بڑی تبدیلی شفافیت ہے۔ درخواست گزار اپنی درخواست کی حیثیت ریئل ٹائم میں دیکھ سکے گا — مسودہ، جمع شدہ، زیر جائزہ، منظور شدہ، مسترد شدہ یا جاری شدہ۔ اگر درخواست مسترد ہوتی ہے تو اس کی وجہ بھی پورٹل پر نظر آئے گی، جو پہلے عام طور پر درخواست گزار کو معلوم نہیں ہوتی تھی۔ اسٹیٹ بینک کو بھی ایک لائیو ڈیش بورڈ کے ذریعے ہر بینک اور پوری صنعت کی سطح پر موصول، زیر عمل، منظور شدہ، جاری شدہ اور مسترد شدہ درخواستوں کا ڈیٹا نظر آئے گا۔ آئندہ اسٹیٹ بینک بینکوں کی سہ ماہی کارکردگی رپورٹس بھی شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جن میں فیصلے کا اوسط وقت، منظور شدہ قرضے، جاری شدہ رقم، مسترد ہونے کی وجوہات اور پہلی بار قرض لینے والوں کی تعداد شامل ہوگی۔
کاروباریوں کے لیے کیا مطلب ہے
یہ تبدیلی ایسے وقت میں آئی ہے جب اسٹیٹ بینک نے 26 اکتوبر کو پالیسی ریٹ 50 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دیا تھا، جس سے قرض لینا مہنگا ہوا ہے۔ تاہم اسٹیٹ بینک نے اس سے قبل ایس ایم ای فنانسنگ کی حد بڑھا کر 50 کروڑ روپے تک کر دی تھی، تاکہ چھوٹے کاروباروں تک قرض کی رسائی بہتر ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہی پورٹل سے درخواست کا عمل آسان ہوگا اور کاروباریوں کو برانچ در برانچ جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، تاہم بینکوں کے عملے کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ درخواست گزاروں کی پورٹل کے استعمال میں رہنمائی کریں۔ بینکوں کی ویب سائٹس اور برانچوں پر SMEConnect کا لنک نمایاں طور پر دکھانا لازم ہوگا۔
رابطہ اور رہنمائی
پورٹل پر اسٹیٹ بینک کی جانب سے مرحلہ وار ویڈیو ٹیوٹوریل بھی موجود ہے۔ سوالات کے لیے ای میل smeconnect@sbp.org.pk اور فون نمبر 021-111-727-273 درج ہے۔ پورٹل کے ہوم پیج پر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، ایف بی آر، سمیڈا اور اسٹیٹ بینک کی شکایات کی سروس سنوائی کے لنکس بھی دیے گئے ہیں۔ نومبر میں قیمتوں سے متعلق دیگر اہم خبروں میں ایل پی جی کی نئی قیمت یہاں پڑھی جا سکتی ہے: https://niazitvnews.com/?p=2995 اور پٹرول و ڈیزل کی تازہ قیمتوں کی خبر یہاں موجود ہے: https://niazitvnews.com/?p=2846
ماخذ: اسٹیٹ بینک پریس ریلیز 29 اکتوبر 2026، پرو پاکستانی، ٹیک ایکس، دی ڈیجیٹل بینکر اور پاک ایرا کی 29 سے 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔