طوفان موراسو: 3 نومبر کو آندھرا ساحل سے ٹکرائے گا

0

خلیج بنگال میں بننے والا نیا سمندری طوفان موراسو 3 نومبر کی صبح آندھرا پردیش کے جنوبی ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق یہ نظام 31 اکتوبر کو جنوب مشرقی خلیج بنگال میں ڈپریشن کی شکل اختیار کر چکا تھا اور اگلے مراحل میں شدت اختیار کرتے ہوئے شدید سمندری طوفان بن جائے گا۔ ساحل سے ٹکرانے کے وقت ہواؤں کی رفتار 100 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے جبکہ جھکڑ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا سکتے ہیں۔

موراسو اس سال خلیج بنگال میں بننے والا دوسرا سمندری طوفان ہوگا۔ اس سے چند روز پہلے ہی طوفان ارناب نے آندھرا پردیش اور اڈیشہ میں تباہی مچائی تھی، اور اب ایک اور طوفان کی آمد نے ان علاقوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں جہاں امدادی کام ابھی جاری ہیں۔

موراسو کب اور کہاں ٹکرائے گا

محکمہ موسمیات کے مطابق یہ نظام مغرب اور شمال مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یکم نومبر کو اس کے سمندری طوفان میں تبدیل ہونے اور 2 نومبر تک شدید سمندری طوفان بننے کا امکان ہے۔ 3 نومبر کی صبح یہ آندھرا پردیش کے جنوبی ساحل پر نیلور اور نرسا پور کے درمیان سے گزرے گا۔

31 اکتوبر کی شام تک یہ ڈپریشن چنئی سے تقریباً 960 کلومیٹر مشرق جنوب مشرق، وشاکھاپٹنم سے 980 کلومیٹر جنوب مشرق اور مچھلی پٹنم سے ایک ہزار 30 کلومیٹر جنوب مشرق میں موجود تھا۔ محکمہ موسمیات نے آندھرا پردیش کے ساحل کے لیے پری سائیکلون واچ جاری کر رکھی ہے اور کہا ہے کہ جیسے جیسے نظام ساحل کے قریب آئے گا، مقام اور وقت کے بارے میں مزید درست معلومات دی جائیں گی۔

آندھرا پردیش اور اوڈیشہ میں بارش کی وارننگ

آندھرا پردیش اور رائل سیما میں 2 اور 3 نومبر کو بہت شدید بارش کا امکان ہے جبکہ بعض مقامات پر انتہائی شدید بارش بھی ہو سکتی ہے۔ ماہی گیروں کو بدھ کی دوپہر تک سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے اور جو پہلے سے سمندر میں ہیں انہیں واپس بندرگاہ لوٹنے کا کہا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خلیج بنگال کے بڑے حصے میں سمندری حالات انتہائی خطرناک ہو جائیں گے۔

اوڈیشہ پر موراسو کا براہ راست اثر نسبتاً کم رہے گا کیونکہ اس کا راستہ جنوب کی جانب ہے، تاہم جنوبی اوڈیشہ کے اضلاع میں 3 اور 4 نومبر کو اورنج وارننگ جاری کی گئی ہے۔ رائے گڑھ، کوراپٹ، ملکانگیری، گجپتی اور گنجام میں 7 سے 12 سینٹی میٹر تک شدید بارش اور 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ گنجام اور گجپتی میں پیر کو بھی بھاری بارش کی یلو وارننگ ہے، اور یہ وہی اضلاع ہیں جو ارناب کے سیلاب سے ابھی سنبھل رہے ہیں۔

ارناب کے بعد دوسرا طوفان کیوں تشویش ناک ہے

ارناب نے 28 اکتوبر کو آندھرا پردیش اور یانم کے ساحلوں سے ٹکرایا تھا اور اس کے بعد سے اوڈیشہ و آندھرا پردیش میں بحالی کا کام جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے خصوصی ریلیف کمشنر کے دفتر میں صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ ارناب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کام تیز کرنے کے ساتھ ساتھ نئے طوفان کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیک ٹو بیک طوفانوں کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں سیلاب، فصلوں کے نقصان اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات کی تازہ ترین ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

پاکستان کے ساحلی علاقوں کے لیے فی الحال اس نظام سے براہ راست خطرے کی کوئی وارننگ سامنے نہیں آئی ہے، تاہم سمندری طوفانوں کے موسم میں صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے تازہ ترین اپ ڈیٹس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

مزید تفصیل کے لیے ہماری گزشتہ رپورٹ طوفان ارناب کے بعد کی صورتحال اور ارناب کے لینڈ فال کی کوریج بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

ذرائع: ٹائمز آف انڈیا، این ڈی ٹی وی پرافٹ، بزنس اسٹینڈرڈ اور پراگتی وادی کی 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹس اور بھارتی محکمہ موسمیات کے بلیٹنز۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *