شمالی کوریا کا کلسٹر بم تجربہ، 13 ہیکٹر تباہی کا دعویٰ

0

شمالی کوریا نے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں پر لگائے جانے والے کلسٹر بم کا تجربہ کر لیا ہے، اور اس کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ وار ہیڈ 12 سے 13 ہیکٹر کے علاقے کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تجربہ ہفتے کے روز کیا گیا اور اس کی خبر اتوار یکم نومبر کو سامنے آئی۔

تجربہ کب اور کیسے ہوا

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق ملک کی میزائل انتظامیہ نے یہ تجربہ ہفتے کے روز اس مقصد سے کیا کہ کلسٹر بم وار ہیڈ کی جنگی موافقت اور تباہ کن طاقت کو جانچا جا سکے۔ جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق اس تجربے میں میزائل شمال مغربی علاقے چونگجو کے قریب سے زرد سمندر کی جانب فائر کیا گیا، جس کی نگرانی کی جا رہی تھی۔ تجربے کی نگرانی جنرل کم جونگ سک نے کی، جو ورکرز پارٹی کی مرکزی فوجی کمیشن کے رکن اور میزائل پروگرام سے وابستہ اعلیٰ عہدیدار ہیں۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اس تجربے میں موجود نہیں تھے۔

کلسٹر بم کی صلاحیت کا دعویٰ

کے سی این اے کے مطابق میزائل انتظامیہ کے تحقیقی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ اسٹینڈرڈ ٹائپ 2 کلسٹر بم وار ہیڈ اپنی سب سے زیادہ کثافت والی طاقت سے 12 سے 13 ہیکٹر کے ہدف والے علاقے کو راکھ میں بدل سکتا ہے۔ میزائل انتظامیہ کے جنرل ڈائریکٹر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کلسٹر بم وار ہیڈز کو ان کے مقاصد کے لحاظ سے چار اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے، اور سال 2026 کے اختتام تک فوجی یونٹس ان تمام اقسام کو اپنے آپریشنل مقاصد اور ہدف کی خصوصیات کے مطابق منتخب کر کے استعمال کر سکیں گی۔ یہ دعویٰ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کا ہے، اور اس کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

کون سا میزائل استعمال ہوا

سیول میں قائم کوریا ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورم کے سیکریٹری جنرل شن جونگ وو کے مطابق یہ میزائل بظاہر ہواسونگ-11 را خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ شمالی کوریا نے اپریل میں بھی ہواسونگ-11 را ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل پر کلسٹر بم کے تجربے کا اعلان کیا تھا، جس کی نگرانی کم جونگ ان اور ان کی بیٹی جو اے نے کی تھی۔ جاپانی میڈیا کے مطابق اس بار جاری کی گئی تصاویر میں ہواسونگ-11 ڈی مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فائر ہوتے اور کلسٹر وار ہیڈز کو جزیرے کے ہدف پر گرتے دکھایا گیا ہے۔ شمالی کوریا کی میزائل انتظامیہ نے اس تجربے کو جنگی نظاموں کی طاقت بڑھانے کے لیے باقاعدہ سائنسی تحقیقی سرگرمیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔

حالیہ ہتھیاروں کے تجربوں کا سلسلہ

یہ تجربہ شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں کیے گئے ہتھیاروں کے تجربوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اس سے پہلے شمالی کوریا نے حملہ آور ڈرونز، ایک نئے درست نشانے والے ٹارپیڈو نظام اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے ہائپرسونک میزائل کا بھی تجربہ کیا تھا۔ ان تجربوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ جوہری پروگرام اور میزائل تجربوں پر پہلے سے تناؤ موجود ہے۔

کلسٹر بم کیا ہوتا ہے

کلسٹر بم ایک ایسا ہتھیار ہوتا ہے جو درجنوں سے لے کر سینکڑوں چھوٹے بموں یا سب میونشنز کو وسیع علاقے میں پھیلا دیتا ہے، جس سے ایک ساتھ کئی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے کلسٹر ہتھیاروں کو بین الاقوامی سطح پر متنازع سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کے کچھ حصے پھٹے بغیر رہ سکتے ہیں اور بعد میں بھی شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ کئی ممالک نے کلسٹر ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، تاہم شمالی کوریا، امریکا، روس اور چین سمیت کئی بڑے ملک اس معاہدے میں شامل نہیں ہیں۔

خطے پر ممکنہ اثرات

جنوبی کوریا اور جاپان شمالی کوریا کے ہر میزائل تجربے پر گہری نظر رکھتے ہیں، اور اس تازہ تجربے کو بھی پیونگ یانگ کی جانب سے اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کے عزم کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کلسٹر وار ہیڈز کی چار اقسام کو سال کے آخر تک فوجی یونٹس کے حوالے کرنے کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ شمالی کوریا اپنے ٹیکٹیکل ہتھیاروں کو مزید متنوع اور عملی بنانا چاہتا ہے۔ آنے والے دنوں میں امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کی جانب سے اس تجربے پر ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: بائنانس ہیک: ایف بی آئی نے شمالی کوریا کو ذمہ دار قرار دیا اور چین اور شمالی کوریا کا نیا یالو دریا پل 11 سال بعد کھل گیا

ذرائع: یونہاپ، جاپان ٹائمز، اے ایف پی اور کے سی این اے، یکم نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *