سیالکوٹ بھگدڑ: 6 ملزمان گرفتار، مقدمہ کی نئی تفصیلات
سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر مسٹر پٹلو کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ کے واقعے میں پولیس نے 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مقدمے میں 9 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں۔
گرفتاریاں اور مقدمہ
پولیس کے مطابق تھانہ موترہ میں درج مقدمے میں ٹک ٹاکر محمد انصار جٹ المعروف مسٹر پٹلو سمیت 9 افراد نامزد ہیں، جبکہ 40 سے 45 نامعلوم افراد بھی مقدمے میں شامل ہیں، جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی بتائے جاتے ہیں۔ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے میں حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی، جس پر منتظمین کے خلاف کارروائی کی گئی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اب تک 6 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں اور باقی کی تلاش جاری ہے۔
واقعہ کیسے پیش آیا
یہ واقعہ ہفتے کی رات سیالکوٹ میں ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں پیش آیا، جہاں مسٹر پٹلو کی مہندی کی تقریب اور انعامی تقسیم کا پروگرام رکھا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق منتظمین نے سوشل میڈیا پر موٹر سائیکلوں، گاڑی اور دیگر قیمتی انعامات کے لکی ڈرا کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ گراؤنڈ کے باہر جمع ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جب گیٹ کھولا گیا تو باہر کھڑے لوگ اندر جانے کے لیے آگے بڑھے، جس سے بھگدڑ مچ گئی اور کئی افراد گر کر کچلے گئے۔
جاں بحق اور زخمیوں کی صورتحال
پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس واقعے میں ایک شہری محمد عقیل ولد بشیر احمد جاں بحق ہوا، جو گاؤں بڑھا گورایا کا رہائشی اور 30 سال کا تھا، جبکہ 18 افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی اور انہیں اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 14 زخمیوں کا ذکر تھا، تاہم پولیس کے بعد میں جاری بیان میں زخمیوں کی تعداد 18 بتائی گئی۔ بعض مقامی ذرائع نے زخمیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے، جبکہ ایک رپورٹ میں دوسری موت کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر حتمی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی ہے، اس لیے اعداد کے بارے میں حتمی بات پولیس یا اسپتال انتظامیہ کے نئے بیان سے ہی ہو سکے گی۔
ریسکیو آپریشن اور خامی
ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے پر چار ایمبولینسز اور ایک موٹر بائیک ایمبولینس نے کارروائی میں حصہ لیا اور زخمیوں کو علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔ ضلعی ایمرجنسی افسر انجینئر نوید اقبال کے مطابق ریسکیو 1122 کو اس بڑے اجتماع کے بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا، جو انتظامات میں ایک بڑی خامی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تقریب کے منتظمین نے بڑے اجتماع کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کیے تھے، اور اسی غفلت کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
مسٹر پٹلو کی مہندی کی تقریب سوشل میڈیا پر پہلے سے زیر بحث تھی، کیونکہ انعامی تقسیم کے اعلان نے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ ایسے بڑے اجتماعات کے لیے پہلے سے اجازت، سیکیورٹی اور ہنگامی انتظامات کیوں نہیں کیے جاتے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے پروگراموں میں شرکت کے وقت احتیاط کریں اور منتظمین پر بھی زور دیا ہے کہ وہ قانون کے مطابق انتظامات کریں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ مشہور شخصیات کی تقریبات میں ہجوم کو قابو میں رکھنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔
اس سے پہلے اس واقعے کی ابتدائی خبر اور مقدمے کے اندراج کی تفصیل بھی شائع ہو چکی ہے، جس میں ایک جاں بحق اور 14 زخمیوں کی ابتدائی اطلاع دی گئی تھی۔ تازہ پیش رفت میں گرفتاریوں کے بعد اب یہ معاملہ عدالت اور تفتیش کے اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی ہوگی۔
مزید پڑھیں: سیالکوٹ بھگدڑ: مسٹر پٹلو سمیت 9 نامزد، مقدمہ درج اور سیالکوٹ بھگدڑ: ٹک ٹاکر کی مہندی میں ایک جاں بحق، 14 زخمی
ذرائع: ڈان، عرب نیوز، 24 نیوز اور پولیس بیان، یکم نومبر 2026۔