مریم نواز کا سالک حسین کو 5 ارب ہرجانے کا نوٹس

0

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو 5 ارب روپے کا ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔ نوٹس میں سالک حسین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات واپس لیں، غیر مشروط معافی مانگیں اور 5 ارب روپے ہرجانہ ادا کریں۔ سات دن کے اندر مطالبات پورے نہ ہوئے تو پنجاب ہتک عزت ایکٹ 2024 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ نوٹس منگل 3 نومبر کو بھیجا گیا اور اس کی خبر بدھ 4 نومبر کے اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہوئی۔

نوٹس کس کو اور کیوں بھیجا گیا؟

یہ قانونی نوٹس ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب چوہدری محمد نواز کے ذریعے جاری کیا گیا۔ نوٹس کے وصول کنندگان میں وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین کے علاوہ اے آر وائی نیوز کے اینکر نعیم اشرف بٹ اور چینل کے چیئرمین محمد اقبال بھی شامل ہیں۔ نوٹس کا تعلق 2 نومبر کو اے آر وائی نیوز پر نشر ہونے والے انٹرویو سے ہے، جو بعد میں چینل کے یوٹیوب پلیٹ فارم پر بھی اپ لوڈ کیا گیا۔

نوٹس کے مطابق اس انٹرویو میں اینکر نے پنجاب میں مبینہ کرپشن کے موضوع پر بحث کی قیادت کی، جبکہ سالک حسین نے صوبائی انتظامیہ پر وسیع اور بے بنیاد الزامات لگائے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ الزامات محض پالیسی سے اختلاف یا عام سیاسی تنقید نہیں، بلکہ صوبے میں وسیع پیمانے پر کرپشن کے سنگین اشارے ہیں، جن سے وزیراعلیٰ اور صوبائی انتظامیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سالک حسین نے کسی مخصوص محکمے، افسر، لین دین، انکوائری یا آڈٹ رپورٹ کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی کوئی دستاویزی ثبوت پیش کیا۔ جیو کی رپورٹ کے مطابق نوٹس میں یہ بھی درج ہے کہ سالک حسین نے خود کہا تھا کہ ان کے پاس ثبوت نہیں، وہ روزانہ پنجاب میں کرپشن کی کہانیاں سنتے ہیں۔

مریم نواز کا اٹک میں اعلان

منگل 3 نومبر کو اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا تھا کہ انہیں ایک وفاقی وزیر کا پنجاب میں کرپشن سے متعلق بیان بھیجا گیا ہے اور وہ اس پر ہتک عزت کا نوٹس بھیج رہی ہیں۔ انہوں نے سالک حسین کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے الزامات کا ثبوت پیش کریں۔ بعد ازاں مسلم لیگ (ن) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ سالک حسین، اینکر نعیم اشرف بٹ اور چیئرمین محمد اقبال کو نوٹس بھیج دیا گیا ہے۔

نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وصول کنندگان متنازع بیانات واپس لیں، غیر مشروط اور غیر مبہم معافی اور وضاحت شائع کریں، اور انٹرویو کے متنازع حصوں کو ہٹائیں یا درست کریں۔ سات دن کی مہلت دی گئی ہے، جس کے بعد قانونی کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔ یہ تمام الزامات فریقین کے دعووں کے طور پر رپورٹ کیے جا رہے ہیں — کرپشن کا کوئی الزام بطور حقیقت ثابت نہیں ہوا ہے۔

سالک حسین کا جواب: پیچھے نہیں ہٹوں گا

دوسری جانب سالک حسین نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بیانات پر قائم ہیں اور پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق انہوں نے منگل کو اپنے الزامات دہرائے اور کہا کہ پنجاب حکومت کی ترقیاتی ترجیحات اور عوامی اخراجات پر سوالات اٹھانا جائز ہے۔ سالک حسین نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا انٹرویو تین ہفتے پہلے ریکارڈ کیا گیا تھا، اس لیے یہ کسی حالیہ تقرری سے متعلق نہیں۔

ادھر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر نے میرٹ پر ڈپٹی کمشنر کی تقرری پر ناراضی کے باعث صوبائی حکومت کے خلاف چارج شیٹ جاری کی۔ سالک حسین نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ افسر پہلے سے اس عہدے پر تعینات تھے۔ سالک حسین کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ق) سے ہے، جو حکمران اتحاد کی چھوٹی اتحادی جماعت ہے — اس لیے یہ تنازع حکمران اتحاد کے اندر بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی لڑائی شدت اختیار کر گئی اور ای سی پی کی ایم کیو ایم کو وارننگ: نشان چھن سکتا ہے۔

ماخذ: ڈان (4 نومبر 2026)، ایکسپریس ٹریبیون (4 نومبر 2026)، جیو نیوز (3 نومبر 2026) اور بزنس ریکارڈر (4 نومبر 2026) کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *