پی ٹی آئی میں اندرونی لڑائی شدت اختیار کر گئی
خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر کو حکومت کھونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے اور پارٹی کے اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ دی نیشن کی 4 نومبر کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے درمیان الزامات کا تبادلہ جاری ہے، جس سے کارکنوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور پارٹی کا سیاسی ردعمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔
بیرسٹر سیف کے الزامات اور گوہر کی تردید
تازہ ترین تنازع اس وقت شروع ہوا جب پی ٹی آئی رہنما اور خیبرپختونخوا کے سابق مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں پارٹی کی موجودہ قیادت پر سنگین الزامات لگائے۔ سیف کے مطابق چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اسد قیصر اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس پارٹی کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی بانی عمران خان کی رہائی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف سے مذاکرات میں ناکام رہے، حالانکہ انہیں اسی مقصد کے لیے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ دیا گیا تھا۔
دوسری جانب بیرسٹر گوہر نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ گوہر کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت نے عمران خان سے ملاقات کے لیے آئین و قانون کے تحت ہر ممکن کوشش کی، مگر انہیں جان بوجھ کر ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔ سیف کے اس دعوے کو بھی گوہر نے جھٹلایا کہ انہیں اور راجہ ناصر عباس کو عمران خان سے ملاقات کی باقاعدہ پیشکش ہوئی تھی مگر وہ عہدوں کے خوف سے ملنے نہیں گئے۔
راجہ اور گنڈاپور کے درمیان لفظی جنگ
اس سے قبل پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ راجہ نے اشارہ دیا تھا کہ پارٹی کے اندر ایک گروپ مرکزی قیادت کے خلاف بغاوت کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے 68 ارکان بانی کی منظوری کے بغیر نئے صوبائی صدر اور اگلے وزیراعلیٰ کے امیدوار کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ گنڈاپور نے راجہ کے بیان کو “افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور نقصان دہ” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اپنی ہی منتخب نمائندوں پر مبہم الزامات لگانا کسی ذمہ دار رہنما کو زیب نہیں دیتا۔
گورنر راج کے بعد پارٹی کی مشکلات
یہ اندرونی کشمکش اس وقت سامنے آ رہی ہے جب وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر کے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے تین ہفتے گزر چکے ہیں، مگر پارٹی ابھی تک کوئی مؤثر سیاسی حکمت عملی ترتیب نہیں دے سکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے اندرونی اختلافات کے دعووں کو مسترد کیا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ کئی سرگرم کارکن مرکزی قیادت سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ زیادہ سیاسی بصیرت رکھنے والے افراد آگے آئیں۔
واضح رہے کہ یہ تمام باتیں متعلقہ رہنماؤں کے دعووں اور بیانات کے طور پر سامنے آئی ہیں، جن کی ایک دوسرے سے تردید بھی موجود ہے، اس لیے انہیں حتمی فیصلے کے طور پر نہیں بلکہ الزامات اور جوابی موقف کے طور پر پڑھنا چاہیے۔
پی ٹی آئی کی حالیہ صورتحال پر ہماری گزشتہ خبریں بھی پڑھیں: (https://niazitvnews.com/?p=3529) اور (https://niazitvnews.com/?p=3507)۔
ماخذ: دی نیشن 4 نومبر 2026، اردو پوائنٹ اور جیو نیوز 2 نومبر 2026۔