بائنانس: 6 ارب ڈالر واپس، آج سے نکاسی بحال

0

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے 6.3 ارب ڈالر کی تاریخی چوری میں سے 6 ارب ڈالر واپس کر لیے ہیں، اور اتوار سے صارفین کے لیے نکاسی مرحلہ وار بحال کر دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کو اس نقصان کا مالی بوجھ نہیں اٹھانا پڑے گا۔

نکاسی کب اور کیسے بحال ہو رہی ہے

بائنانس کے مطابق نکاسی کا پہلا مرحلہ اتوار کو 0600 سے 0900 گرین وچ وقت کے درمیان شروع ہوا، جس میں 15 کرپٹو اثاثے شامل ہیں، جن میں بٹ کوائن، ایتھر، ایکس آر پی اور ڈوج کوائن بھی شامل ہیں۔ کمپنی نے کہا ہے کہ نکاسی کو مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے تاکہ نظام مستحکم رہے اور کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اس سے پہلے حملے کے فوراً بعد بائنانس نے تمام صارفین کی نکاسی معطل کر دی تھی۔

6 ارب ڈالر کیسے واپس کیے گئے

بائنانس نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ اس نے کمپنی کے اپنے پیسوں سے متبادل ٹوکن خرید کر 6 ارب ڈالر کی چوری شدہ رقم کو پورا کر لیا ہے۔ اس سے پہلے کمپنی نے 90 فیصد رقم کی واپسی کا اعلان کیا تھا، اور اب یہ شرح تقریباً 95 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ باقی 10 فیصد سے کم رقم ایسے اثاثوں پر مشتمل ہے جو کم مائع ہیں اور مطلوبہ مقدار میں خریدنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ بائنانس نے نقصان پورا کرنے کے لیے اندرونی طور پر تقریباً 6.34 ارب ڈالر مختص کیے ہیں۔

سیفو فنڈ کا کردار

اس بڑی واپسی کے لیے بائنانس نے کئی ذرائع استعمال کیے ہیں، جن میں اس کا 1 ارب ڈالر کا سیکیور ایسیٹ فنڈ فار یوزرز یعنی سیفو فنڈ، فیوچرز انشورنس فنڈ اور کمپنی کا اپنا کارپوریٹ خزانہ شامل ہے۔ سیفو فنڈ ایک بٹ کوائن ریزرو ہے جو صارفین کو سیکیورٹی کی خلاف ورزی جیسے غیر معمولی حالات میں تحفظ فراہم کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ کمپنی کی شریک سی ای او یی ہی نے ہفتے کے روز کہا کہ سیفو فنڈ کا 50 فیصد استعمال کیا جائے گا، جبکہ کمپنی نے وعدہ کیا ہے کہ اس فنڈ کو دوبارہ بھر کر تقریباً 1 ارب ڈالر تک لے جایا جائے گا۔

حملے کے پیچھے کون تھا

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے ہفتے کے روز کہا کہ اس حملے کے پیچھے شمالی کوریا کی سرکاری سرپرستی والی سائبر یونٹ ٹریڈر ٹریٹر ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق 29 اکتوبر کو بائنانس سے 6 ارب ڈالر سے زیادہ کے ورچوئل اثاثے چوری کیے گئے تھے، جو تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو چوری قرار دی جا رہی ہے۔ بائنانس کے دوسرے شریک سی ای او رچرڈ ٹینگ نے اس حملے کو ایک پیچیدہ حملہ قرار دیا ہے، جس میں ایک متاثرہ لیپ ٹاپ اور ایسا نقصان دہ سافٹ ویئر استعمال ہوا جو اپنی سرگرمی کے شواہد مٹانے کے لیے بنایا گیا تھا، جس سے سراغ لگانا اور تحقیقات مشکل ہو گئیں۔

منجمد اثاثے اور پروف آف ریزرو

بائنانس کا کہنا ہے کہ وہ انڈسٹری کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر متاثرہ اثاثوں کو منجمد کرنے پر کام کر رہا ہے، اور جمعے تک تقریباً 3 ارب ڈالر کے اثاثوں کا سراغ لگا لیا گیا تھا۔ کمپنی نے 31 اکتوبر کو گرین وچ وقت کے مطابق رات 12 بجے اپنے پلیٹ فارم پر موجود اثاثوں کا نیا اسنیپ شاٹ بھی لیا ہے، جو اس کے پروف آف ریزرو کے عمل کا حصہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو یہ یقین دلانا ہے کہ ان کے اثاثے محفوظ ہیں اور کمپنی کے پاس ان کی مکمل پشت پناہی موجود ہے۔

صارفین کے لیے کیا معنی رکھتا ہے

کرپٹو مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق بائنانس کی جانب سے اتنی جلدی 6 ارب ڈالر کی واپسی اور نکاسی کی بحالی صارفین کے اعتماد کے لیے اہم ہے، کیونکہ اس طرح کے بڑے حملے کے بعد عام طور پر صارفین میں خوف پھیل جاتا ہے۔ تاہم باقی کم مائع اثاثوں کی واپسی میں ابھی وقت لگ سکتا ہے، اور کمپنی نے اس بارے میں واضح کیا ہے کہ وہ اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے کرپٹو صارفین اس خبر پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ بائنانس دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کرپٹو ایکسچینج میں سے ایک ہے۔

ذرائع: ڈان، رائٹرز، ٹیک جوائس اور بائنانس کا ایکس بیان، یکم نومبر 2026۔مزید پڑھیں: بائنانس ہیک: ایف بی آئی نے شمالی کوریا کو ذمہ دار قرار دیا (https://niazitvnews.com/?p=3033)

اور بائنانس ہیک: 6.34 ارب ڈالر کا انتظام، واپسی اتوار تک(https://niazitvnews.com/?p=2860)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *