بائنانس ہیک: 6.34 ارب ڈالر کا انتظام، واپسی اتوار تک

0

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے تاریخ کی سب سے بڑی چوری کے بعد صارفین کے نقصان کی تلافی کے لیے 6.34 ارب ڈالر سے زائد کا انتظام کر لیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس رقم میں سے 5 ارب ڈالر پہلے ہی انہی ٹوکنز کی شکل میں موجود ہیں جو چوری ہوئے تھے، جبکہ چوری شدہ اثاثوں میں سے تقریباً 3 ارب ڈالر کو شراکت داروں کی مدد سے منجمد بھی کر دیا گیا ہے۔ واپسی (ودڈرال) کی سروس عارضی طور پر معطل ہے اور اسے اتوار تک بحال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

چوری کیسے ہوئی اور کتنا نقصان ہوا

بائنانس کے مطابق حملہ آوروں نے 29 اکتوبر کی شام تقریباً 20 منٹ کے دوران ایکسچینج کے ہاٹ والٹس سے اندازاً 6.3 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی نکال لی۔ یہ رقم دس مختلف بلاک چینز پر پھیلی ہوئی تھی اور اس میں بٹ کوائن، ایتھریم اور ٹیتھر و سرکل کے ڈالر سے منسلک اسٹیبل کوائنز شامل تھے۔ بلاک چین تجزیاتی کمپنیوں ٹی آر ایم لیبز اور چین ایلیسیز نے اس حملے کو شمالی کوریا کے ہیکر گروپ ٹریڈر ٹریٹر سے منسوب کیا ہے، تاہم یہ نسبت حتمی عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ تجزیاتی کمپنیوں کا جائزہ ہے۔
بائنانس نے پہلے ایک ملازم کے لیپ ٹاپ کے متاثر ہونے کو حملے کی وجہ بتایا تھا، لیکن بعد میں کمپنی نے کہا کہ سیکیورٹی جانچ میں خلاف ورزی کے مزید مقامات بھی ملے ہیں اور حملے کی مکمل ترتیب ابھی معلوم نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ واپسی کی سروس اس وقت تک بند رکھی گئی ہے جب تک سیکیورٹی جانچ مکمل نہ ہو جائے۔

6.34 ارب ڈالر کا انتظام کیا ہے

بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ کے مطابق کمپنی نے اپنے وسائل سے 6.34 ارب ڈالر سے زیادہ مختص کیے ہیں تاکہ متاثرہ صارفین کے بیلنس ایک کے بدلے ایک کی بنیاد پر بحال کیے جا سکیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ رقم منجمد شدہ 3 ارب ڈالر کے اثاثوں سے الگ ہے، یعنی دونوں کو ملا کر نہیں گنا جا رہا۔ اس کے علاوہ بائنانس کا ہنگامی سیکیورٹی فنڈ (سیفو) بھی موجود ہے جس میں تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کا بٹ کوائن رکھا جاتا ہے۔
ٹیتھر کے چیف ایگزیکٹو پاولو آرڈوئنو نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے اس واقعے سے منسلک 1.57 ارب ڈالر سے زیادہ کے یو ایس ڈی ٹی منجمد کیے ہیں، جبکہ سرکل نے 80 کروڑ ڈالر سے زیادہ کے یو ایس ڈی سی منجمد کیے۔ تجزیاتی کمپنی ٹی آر ایم لیبز کے اندازے کے مطابق حملہ آوروں کے پاس اب بھی تقریباً 2.4 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی موجود ہے جو کسی جاری کنندہ کے منجمد کرنے کی حد سے باہر ہے۔

صارفین کے لیے اس وقت کیا صورتحال ہے

بائنانس کے مطابق صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں اور ڈپازٹس کی سروس جاری ہے، لیکن واپسی کی سروس معطل ہے۔ کمپنی کے شریک بانی یی ہی نے کہا ہے کہ واپسی کی سروس اگلے 48 گھنٹوں میں بحال ہو جائے گی، یعنی ہدف اتوار کا دن ہے۔ کمپنی نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ پیر تک مکمل پروف آف ریزروز جاری کیا جائے گا تاکہ صارفین خود تصدیق کر سکیں کہ ان کے فنڈز موجود ہیں۔
تاہم سیکیورٹی تجزیاتی کمپنی سرٹک نے کہا ہے کہ بائنانس کے 5 ارب ڈالر کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق کے لیے مزید تفصیلات درکار ہیں، اور نینسن نے بھی کہا ہے کہ ہنگامی فنڈ سے آگے کمپنی کے دستیاب فنڈز کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے صارفین کو کمپنی کے وعدے اور آزاد تصدیق کے درمیان فرق کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔

یہ واقعہ کیوں اہم ہے

یہ چوری کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری قرار دی جا رہی ہے اور اس نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ بڑی ایکسچینجز اپنے ہاٹ والٹس کو کتنا محفوظ رکھتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں کرپٹو ایکسچینجز پر واپسی کے حفاظتی اقدامات سخت کرنے اور صنعت بھر میں مربوط جواب کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے کرپٹو صارفین اس پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ بائنانس دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایکسچینج ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ہماری گزشتہ خبر بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری (https://niazitvnews.com/?p=2807) اور ٹیکنالوجی سیکٹر کی خبر گوگل کی مالک الفابیٹ کے حصص 12 فیصد گر گئے (https://niazitvnews.com/?p=2814) بھی پڑھیں۔
ذرائع: کوائن ڈیسک، کوائن ٹیلی گراف اور نکی ایشیا، 30 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *