قومی اسمبلی: غیر جنسی ہراسانی بھی جرم، قرارداد منظور
قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کر لی: ہراسانی صرف جنسی رویہ نہیں
قومی اسمبلی نے جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ کام کی جگہ پر ہراسانی صرف جنسی نوعیت کے رویے تک محدود نہیں ہے۔ قرارداد کے مطابق صنفی امتیاز، دھمکی، توہین، توہین آمیز سلوک، دشمنانہ رویہ اور اختیار کا غلط استعمال بھی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے، چاہے وہ جنسی نوعیت کا ہو یا نہ ہو۔
قرارداد کس نے پیش کی اور اس میں کیا کہا گیا
یہ قرارداد رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے پیش کی، جو ویمن پارلیمانی کاکس کی سیکریٹری بھی ہیں۔ قرارداد میں پارلیمنٹ کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ہر فرد کے وقار، مساوات اور حقوق کا تحفظ ہر قسم کی کام کی جگہ پر ہراسانی اور صنفی امتیاز سے کیا جائے گا۔
قرارداد میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 14، جو انسانی وقار کے تحفظ سے متعلق ہے، اور آرٹیکل 25، جو شہریوں کی مساوات کی ضمانت دیتا ہے، کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جنسی پیشکش یا مطالبے کی عدم موجودگی صنفی بنیاد پر ہراسانی یا امتیاز کی سنگینی کو کم نہیں کرتی۔
2010 کے قانون کا حوالہ
قرارداد میں کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے سے تحفظ کے قانون 2010 کا بھی اعادہ کیا گیا ہے، جس میں 2022 میں ترمیم کی گئی تھی۔ اس قانون کے تحت صنفی بنیاد پر امتیاز، چاہے وہ جنسی نوعیت کا ہو یا غیر جنسی، ہراسانی کے قانونی دائرے میں آتا ہے۔
قرارداد میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ موجودہ قانون پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ کام کی جگہیں محفوظ اور جامع بن سکیں۔
قرارداد کا پس منظر
قرارداد میں کسی مخصوص واقعے کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم یہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وکلاء اور صحافیوں نے وفاقی آئینی عدالت کے ایک حالیہ فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے نیشنل بینک آف پاکستان کے ایک ملازم کی جانب سے 2012 میں دائر کردہ کام کی جگہ پر ہراسانی کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔
یہ فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا تھا، جس میں 2010 کے قانون میں دی گئی ہراسانی کی تعریف کو دہرایا گیا تھا۔ قرارداد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس پس منظر میں قانون کی اصل روح اور پارلیمنٹ کے ارادے کو واضح کرنا ضروری ہو گیا تھا۔
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2614
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2186
اس قرارداد کی اہمیت کیا ہے
ماہرین کے مطابق یہ قرارداد کام کی جگہ پر ہراسانی کے تصور کو وسیع کرتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ دھمکی، توہین یا صنفی امتیاز کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں جنسی عنصر شامل نہیں تھا۔ اس سے متاثرہ افراد، خاص طور پر خواتین ملازمین، کو قانونی تحفظ کے لیے زیادہ واضح بنیاد ملتی ہے۔
تاہم یہ قرارداد بذات خود کوئی نیا قانون نہیں ہے، بلکہ موجودہ قانون کے نفاذ اور اس کی تشریح کے بارے میں پارلیمنٹ کا متفقہ موقف ہے۔ اس پر عمل درآمد کا دارومدار اب وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں پر ہوگا۔
ذرائع: ڈان، پاکستان ٹوڈے، اردو پوائنٹ (اے پی پی) — 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔