نقوی کا دعویٰ: جے یو آئی (ف) نے کے پی میں گورنر راج مانگا تھا

0

سینیٹ میں ہنگامہ: نقوی کا دعویٰ — جے یو آئی (ف) نے گورنر راج مانگا تھا

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ کے اجلاس میں دعویٰ کیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں نے ماضی میں حکومت سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے اس دعوے پر ایوان میں جے یو آئی (ف) کے سینیٹرز نے شدید احتجاج کیا اور اجلاس میں ہنگامہ آرائی ہو گئی۔

سینیٹ میں کیا ہوا

سینیٹ کے اجلاس کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے رہنما ماضی میں ان کے پاس آ کر گورنر راج لگانے اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سے نجات دلانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو پہلے گورنر راج کا مطالبہ کرتے تھے۔

نقوی کے اس بیان پر جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ سمیت دیگر ارکان نے احتجاج کیا۔ ایوان کے صدر نے بار بار مداخلت کرتے ہوئے ارکان سے نظم و ضبط برقرار رکھنے اور وزیر کو اپنی بات مکمل کرنے دینے کی اپیل کی، تاہم ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ جاری رہا۔

دعوے کا پس منظر: فضل الرحمان کی تنقید

محسن نقوی کا یہ دعویٰ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک روز قبل قومی اسمبلی میں کیے گئے ریمارکس کے جواب میں سامنے آیا۔ فضل الرحمان نے سوال اٹھایا تھا کہ تہران میں ہونے والے اجلاس میں وزیر دفاع کی عدم موجودگی میں وزیر داخلہ کیوں شریک ہوئے تھے، اور اس دورے کا مقصد کیا تھا۔

نقوی نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ایران کا دورہ کسی دفاعی معاہدے پر مذاکرات کے لیے نہیں تھا، بلکہ جاری علاقائی بحران سے نمٹنے کے لیے تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کئی ہفتوں سے فضل الرحمان کی تنقید کا جواب دینے سے گریز کر رہے تھے، لیکن اب صورتحال ایسی ہو گئی ہے کہ جواب دینا ضروری ہو گیا۔

نقوی کے سخت ریمارکس اور جے یو آئی کا ردعمل

سینیٹ میں اپنے خطاب کے دوران محسن نقوی نے فضل الرحمان کے بارے میں سخت زبان بھی استعمال کی اور کہا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے ریاست کے بارے میں حالیہ بیانات کے بعد ان کے لیے احترام کی گنجائش ختم ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات قابل قبول ہیں، لیکن مذہب کو کاروبار یا سیاست کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔

جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے نقوی کے لہجے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر کو ذاتی ایجنڈے پر بات کرنی ہے تو وہ پریس کانفرنس کریں۔ صدارتی افسر شہادت اعوان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ ایوان کے رکن کی حیثیت سے بات کر سکتے ہیں، اور قابل اعتراض الفاظ کو کارروائی سے حذف کرنے کا حکم دیا۔

پی ٹی آئی کا موقف

پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے اپنے نکتہ اعتراض پر کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ اور منتخب صوبائی حکومت کی تبدیلی نے آئین کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم نے دیکھا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی سے آئینی خلاف ورزیوں پر مہر لگوانے کی کوشش کی گئی۔

علی ظفر نے یہ بھی کہا کہ وزیر داخلہ کے دعوے اور جے یو آئی (ف) کے ردعمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گورنر راج کا معاملہ اب محض آئینی نہیں، بلکہ سیاسی بیان بازی کا میدان بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2848

مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2628

آگے کیا ہوگا

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا معاملہ پہلے ہی پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، اور پی ٹی آئی کی جانب سے اس کے خاتمے کے لیے مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔ سینیٹ میں نقوی کے تازہ دعوے کے بعد یہ معاملہ مزید سیاسی رنگ اختیار کر گیا ہے، اور آئندہ اجلاسوں میں اس پر مزید بحث متوقع ہے۔

ذرائع: جیو نیوز، دنیا نیوز، دی نیشن، اے آر وائی نیوز، پاکستان ٹوڈے — 29 اور 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *