مکہ مکرمہ پر ڈرون حملہ ناکام، اتحادی افواج نے مار گرایا
مکہ مکرمہ کے علاقے میں ڈرون مار گرایا گیا، حوثیوں نے تردید کر دی
سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعہ 30 اکتوبر 2026 کی صبح مکہ مکرمہ کے علاقے میں یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک ڈرون روک کر تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب حوثیوں کے فوجی ترجمان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے سعودی علاقے کی طرف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
اتحادی افواج کا دعویٰ کیا ہے
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ مکرمہ کے علاقے میں روک کر تباہ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی جمعہ کی صبح کی گئی۔
ترجمان نے اسی روز یہ بھی بتایا کہ سعودی فضائی دفاع نے مغربی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ایک حوثی کروز میزائل کو بھی روک کر تباہ کر دیا۔ اس سے ایک روز قبل، جمعرات کو، اتحادی افواج نے مشرقی علاقے کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ بعد میں ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو بھی روکا گیا تھا۔
رپورٹوں کے مطابق مکہ مکرمہ کے علاقے میں ڈرون روکنے کے اس واقعے میں کسی نقصان یا جانی تلفی کا ذکر سامنے نہیں آیا ہے۔ اتحادی افواج کے بیان میں ڈرون کے مخصوص ہدف کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دی گئی۔
حوثیوں کا موقف: دعویٰ مسترد
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اتحادی افواج کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز سعودی علاقے کی طرف ان کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اور مکہ مکرمہ کی فضا میں ڈرون روکنے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔
یحییٰ سریع کے مطابق حوثیوں کی کارروائیاں سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں تک محدود ہیں۔ حوثی گروپ ماضی میں بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے، اور اس کا موقف رہا ہے کہ اسلام کے دو مقدس شہروں کو اس کی کارروائیوں کا ہدف نہیں بنایا جاتا۔
کشیدگی میں اضافے کا پس منظر
یمن میں سعودی زیر قیادت اتحادی افواج مارچ 2015 سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ حوثیوں نے ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں ڈرون اور میزائل حملے، ہوائی اڈوں اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے شامل ہیں۔
اس سے قبل رواں ماہ دمام کے شاہ فہد ایئرپورٹ پر حملے اور شیبہ آئل فیلڈ پر ڈرون حملے کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں، جن پر پاکستان سمیت خطے میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1301
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2789
آگے کیا ہوگا
مکہ مکرمہ کے علاقے میں ڈرون روکنے کے دعوے اور اس کی تردید کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں فریقوں کے بیانات میں تضاد کے باعث واقعے کی آزادانہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ کیا فریقین کے درمیان حملوں کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے یا سفارتی کوششوں سے کشیدگی میں کمی آتی ہے۔
ذرائع: الجزیرہ، رائٹرز، پاکستان ٹوڈے، ہم نیوز، ٹریبیون — 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔