زیلنسکی آج ترکیہ میں، ایردوان سے یوکرین جنگ پر بات چیت

0

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی آج ہفتے 31 اکتوبر کو ترکیہ کے دورے پر استنبول پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کریں گے۔ ترک صدارتی دفتر کے مطابق اس ملاقات میں روس یوکرین جنگ، بحیرہ اسود کی سیکیورٹی صورتحال اور دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے اقدامات پر بات چیت ہوگی۔

دورے کا اعلان اور ایجنڈا

ترکیہ کے صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشنز برہان الدین دوران نے جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ صدر زیلنسکی صدر ایردوان کی دعوت پر ترکیہ کا عملی دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ استنبول میں ہونے والی بات چیت میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال ہوگا، جس میں روس یوکرین جنگ اور بحیرہ اسود کی سیکیورٹی صورتحال کو خاص اہمیت دی جائے گی۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یوکرین کے محاذ پر کشیدگی برقرار ہے اور ترکیہ نے شروع سے ہی دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی اور بات چیت کی کوششوں میں کردار ادا کیا ہے۔ ترکیہ اس سے قبل بھی روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کر چکا ہے اور بحیرہ اسود کے ذریعے اناج کی ترسیل کے معاہدے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

زیلنسکی کا ڈیپ اسٹرائیک صلاحیت کا دعویٰ

دورے سے قبل صدر زیلنسکی نے یوکرین کی ڈیپ اسٹرائیک صلاحیت میں نمایاں پیش رفت کا اعلان کیا۔ انہوں نے ستمبر اور اکتوبر میں کیے گئے ڈیپ اسٹرائیکس کے نتائج پر ایک اجلاس کے بعد کہا کہ روس کی وہ اسٹریٹجک تنصیبات جو یامال سے مغربی سائبیریا تک پھیلی ہوئی ہیں، اب یوکرین کے میزائلوں اور ڈرونز کی پہنچ میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین اس بات کو یقینی بنانے پر کام کر رہا ہے کہ اس کے ڈرون اور میزائل روس کے مزید دور دراز علاقوں تک بھی پہنچ سکیں۔

یہ بیان یوکرین کی جانب سے روس کے اندرونی علاقوں میں توانائی اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مہم کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جسے یوکرین روس کی جنگی مشین کو کمزور کرنے کی حکمت عملی قرار دیتا ہے۔

ترکیہ کا کردار کیوں اہم ہے

ترکیہ نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے، اور اسی دوہری پوزیشن کی وجہ سے وہ یوکرین جنگ میں ثالثی کے لیے منفرد مقام رکھتا ہے۔ ایردوان نے اکتوبر کے آغاز میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ٹیلی فون پر بات چیت میں بھی بحیرہ اسود کی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے بھی کہا ہے کہ عالمی برادری کو بحیرہ اسود میں عالمی تجارتی راستے کی بحالی میں سہولت فراہم کرنی چاہیے۔

یوکرین کے لیے بحیرہ اسود کی سیکیورٹی براہ راست معاشی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسی راستے سے یوکرین کی زرعی برآمدات دنیا بھر تک پہنچتی ہیں۔ اس لیے استنبول ملاقات میں اس موضوع پر کسی پیش رفت پر دنیا بھر کی نظریں ہوں گی۔

مزید تفصیل کے لیے ہماری گزشتہ خبریں اولیشکی سے انخلا، میلانیا ٹرمپ جنگ بندی کے تحت اور یوکرین کا سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی پڑھیں۔

ذرائع: دی ٹریبیون انڈیا اور یورپین پراودا، 30 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *