ایران نے برطانوی نیوی، فضائیہ کو دہشت گرد قرار دیا

0

ایران نے یکم نومبر 2026 سے برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کو دشمن گروہ اور رائل نیوی و رائل ایئر فورس کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدام برطانیہ کے ایران مخالف اقدامات کے جواب میں کیا گیا ہے، جن میں امریکا اسرائیل جنگ کے دوران برطانیہ کی جانب سے فوجی اڈے، سہولتیں اور لاجسٹک مدد فراہم کرنا شامل ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ ہے اور دوحہ میں سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔

ایران کا اعلان: باہمی اقدام کا دعویٰ

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، جو تسنیم نیوز ایجنسی کے حوالے سے سامنے آیا، یہ اقدامات ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کی بنیاد پر کیے گئے اور یکم نومبر سے نافذ ہو گئے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ اقدام باہمی اصول پر مبنی ہے اور ایران کی قومی سلامتی و مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ بیان میں برطانیہ کے 13 جولائی 2026 کے اس فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا جس کے تحت ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کو اسٹیٹ تھریٹس ایکٹ 2026 کے تحت رکھا گیا تھا۔ اس سے ایک روز پہلے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے فوجی کمانڈروں سے ملاقات میں کہا تھا کہ کسی بھی حملے کا جواب فوری، مؤثر اور بغیر کسی جغرافیائی حد کے دیا جائے گا، اور کمانڈروں کو ہدف کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ اس میں امریکا اسرائیل دشمن کے تمام مادی و غیر مادی اثاثے شامل ہوں۔ ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی کہا ہے کہ اگر ایران کی سات شرائط پوری ہو جائیں تو سفارت کاری کا راستہ کھلا رہے گا، ورنہ حملہ آور کو نئے ہتھیاروں سے تباہ کن جواب دیا جائے گا۔

ٹرمپ: معاہدہ چاہتے ہیں، مگر ایران قابل اعتماد نہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو فلوریڈا میں فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وہ ایران سے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن تہران قابل اعتماد نہیں ہے۔ ان کے الفاظ میں، ایران معاہدہ کرتا ہے اور پھر اس سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ ٹرمپ نے ہفتے کو مار اے لاگو میں صحافیوں سے یہ بھی کہا تھا کہ امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کا بڑا حصہ ختم کر دیا ہے، لیکن ایک دو اہداف باقی ہیں، جن میں پک ایکس ماؤنٹین کا مشتبہ زیر زمین مرکز بھی شامل ہے، جسے امریکا 10 منٹ میں نمٹا سکتا ہے۔ ایران کی حکومت اس مقام پر کسی جوہری سرگرمی سے انکار کرتی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کو کہا تھا کہ ٹرمپ نے ابھی نئے حملوں کا فیصلہ نہیں کیا ہے اور سفارتی حل کو ترجیح دیں گے۔ دوسری طرف، رائٹرز کے مطابق ایرانی مذاکرات کاروں نے ہفتے کو دوحہ میں قطری ثالثوں سے بات چیت کی، جو تہران میں ایرانی و قطری نمائندوں کے درمیان 12 گھنٹے سے زیادہ جاری مذاکرات کے بعد ہوئی۔ قطر کے ثالث جمعے کو تہران پہنچے تھے، اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایرانی سیکیورٹی چیف محسن رضائی کو خط لکھا تھا، جس کے لہجے میں تبدیلی کو تہران نے مثبت قرار دیا تھا۔

خلیج میں کشیدگی: قطری ٹینکر پر حملہ

خلیج میں کشیدگی کا ایک اور واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔ قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعے کی شام خلیجی پانیوں سے گزرتے ہوئے قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی کے مائع قدرتی گیس بردار جہاز المییدہ پر نامعلوم اشیا سے حملہ ہوا۔ جہاز کے عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا، ماحولیاتی نقصان نہیں ہوا، اور جہاز محفوظ حالت میں اور فعال ہے۔ فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران آبنائے ہرمز اور وسیع خلیج میں جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جہازوں کو گزرنے کے لیے اس کی اجازت لینا ہوگی، جب کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ہفتے کو لکھا کہ ایرانی تیل کی ترسیل کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب واپس آ گئی ہے۔ ان کے مطابق دنیا ایرانی تیل کے بغیر گزارہ کر سکتی ہے، لیکن ایران تیل کی برآمدات کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تہران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ابتدائی مفاہمت کے بعد 7 دن میں کھولا جا سکتا ہے، جب کہ بعض رپورٹوں میں 2 دن کا بھی ذکر آیا ہے، اس لیے ہرمز کی بحالی اب بھی مذاکرات کی کامیابی سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورت حال براہ راست اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ خلیج میں کشیدگی سے تیل کی قیمتوں، ایل پی جی کی فراہمی اور خطے کی سلامتی پر اثر پڑتا ہے۔ اگلے چند دن اہم ہیں، کیونکہ امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہیں اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کو انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ مختصر و شدید فوجی مہم کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے، حالانکہ ٹرمپ نے حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ: ایران کے ایک دو اہداف 10 منٹ میں نمٹا سکتے ہیں https://niazitvnews.com/?p=3077 اور ایران: حملے پر بلا جغرافیائی حد جواب کی دھمکی https://niazitvnews.com/?p=3062

ذرائع: گلف نیوز، رائٹرز، ہاریٹز اور ٹریبیون، یکم نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *