قطر گیس فراہمی دسمبر جنوری میں جاری رہے گی

0

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قطر سے گیس کی فراہمی دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں جاری رہے گی اور ملک کو گیس کی مناسب فراہمی ملتی رہے گی۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس سے سردیوں میں گیس کی قلت سے متعلق خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

وزیر پٹرولیم کے مطابق، قطر سے گیس کی درآمد جاری ہے اور آنے والے مہینوں میں فراہمی مناسب رہنے کی توقع ہے۔ یہ یقین دہانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال نے عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے، اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک بشمول پاکستان کے لیے چیلنجز پیدا ہوئے ہیں۔

وزیر پٹرولیم نے کیا کہا

علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران عالمی منڈی کے دباؤ اور توانائی کی فراہمی میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود صورتحال کو کامیابی سے سنبھالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو قطر سے گیس کی فراہمی مسلسل مل رہی ہے اور دسمبر و جنوری میں بھی یہ سلسلہ برقرار رہے گا، جو سردیوں کے مہینوں میں گھریلو صارفین اور صنعت کے لیے سب سے اہم دور ہوتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک شفاف طریقہ کار کے ذریعے مقرر کر رہی ہے، تاکہ صارفین سے عالمی منڈی کے حالات کے مطابق قیمت وصول کی جائے۔ وزیر کے مطابق، مالی طور پر کمزور طبقات کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کی جانب سے پٹرول پر ٹارگٹڈ سبسڈی جاری ہے، تاکہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ غریب گھرانوں پر کم پڑے۔

سردیوں میں گیس کیوں اہم ہے

پاکستان میں ہر سال سردیوں کے مہینوں میں گیس کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو جاتا ہے، کیونکہ گھریلو صارفین ہیٹنگ اور کھانا پکانے کے لیے زیادہ گیس استعمال کرتے ہیں، جبکہ صنعت اور بجلی کے شعبے کی ضروریات بھی برقرار رہتی ہیں۔ اسی لیے دسمبر اور جنوری میں گیس کی فراہمی کا سوال ہر سال عوامی بحث کا موضوع بنتا ہے، اور حکومت کی جانب سے پیشگی یقین دہانی کو صارفین کے لیے اہم خبر سمجھا جاتا ہے۔

قطر پاکستان کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا ایک بڑا ذریعہ ہے، اور طویل مدتی معاہدوں کے تحت قطر سے گیس کی فراہمی پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا ایک اہم حصہ پوری کرتی ہے۔ آبنائے ہرمز کے راستے توانائی کی ترسیل میں کسی بھی رکاوٹ کا خدشہ اس لیے بھی حساس ہے کہ خلیج سے آنے والی تیل و گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔

آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال

وزیر پٹرولیم نے تسلیم کیا کہ آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال نے عالمی تیل و گیس کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے، جس سے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں خلیج میں کشیدگی اور ایران و امریکا کے درمیان بیان بازی نے عالمی منڈیوں میں تشویش بڑھائی ہے، اور اس کا اثر پاکستان جیسے درآمدی ممالک کی توانائی کی قیمتوں پر بھی پڑا ہے۔

اس پس منظر میں وزیر کی یقین دہانی کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ قطر سے فراہمی کا سلسلہ متاثر نہیں ہوا ہے اور حکومت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ تاہم، توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ آئندہ بھی پاکستان کی درآمدی لاگت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

صارفین پر کیا اثر پڑے گا

عام صارفین کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سردیوں میں گھروں میں گیس کی فراہمی کتنی مستحکم رہے گی اور قیمتیں کس سطح پر رہیں گی۔ وزیر نے ٹارگٹڈ سبسڈی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کم آمدنی والے افراد کو ریلیف دینے کی کوشش جاری رکھے گی، لیکن سبسڈی کی تفصیلات اور اس کے دائرہ کار کے بارے میں مزید وضاحت آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔

توانائی کی قیمتوں کا براہ راست تعلق روزمرہ کی زندگی سے ہے، جیسا کہ کھلے بازار میں ایل پی جی کی قیمت سرکاری نرخ سے دوگنی ہونے کی خبر سے ظاہر ہوتا ہے: https://niazitvnews.com/?p=3079 ۔ اسی طرح خلیجی خطے میں توانائی کی قیمتوں میں تبدیلی پاکستان پر بھی اثر ڈالتی ہے، جس کی ایک مثال متحدہ عرب امارات میں نومبر کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں کمی ہے: https://niazitvnews.com/?p=3004 ۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

آنے والے ہفتوں میں قطر سے گیس کی فراہمی، سردیوں کے لیے گیس لوڈ مینجمنٹ پلان اور قیمتوں کے اعلانات پر نظر رہے گی۔ اگر فراہمی وزیر کے بیان کے مطابق برقرار رہتی ہے تو سردیوں میں گھریلو صارفین کو بڑی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، لیکن حتمی صورتحال دسمبر کے آغاز میں ہی واضح ہو سکے گی۔

ذرائع: 24 نیوز، یکم نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *