تورخم پر پھر فائرنگ، مہاجرین کی واپسی رک گئی

0

ذرائع کے مطابق یکم نومبر بروز اتوار کو تورخم سرحدی گزرگاہ کے قریب افغان طالبان اور پاکستانی فورسز کے درمیان پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے باعث پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی آمد و رفت رک گئی۔ یہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تورخم پر فائرنگ کا تیسرا واقعہ بتایا جا رہا ہے۔ تاحال نہ طالبان حکومت اور نہ ہی پاکستانی حکام نے اس واقعے پر کوئی سرکاری بیان جاری کیا ہے، اور کسی جانی نقصان یا مادی نقصان کی بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

فائرنگ کیسے شروع ہوئی

ذرائع نے ہشت صبح ڈیلی کو بتایا کہ جھڑپ اتوار کو دوپہر کے قریب شروع ہوئی، جب طالبان جنگجوؤں نے تورخم گزرگاہ کے قریب ایک چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی، جس پر پاکستانی فورسز نے مخالفت کی۔ خامه پریس کی رپورٹ کے مطابق دونوں جانب سے ایک دوسرے کی پوزیشنوں پر فائرنگ کی گئی اور خبر شائع ہونے تک فائرنگ جاری تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان نے سرحد کے قریب جنگل کے نام سے مشہور مقام پر ایک سکیورٹی پوسٹ بنانے کی کوشش کی تھی، جو کشیدگی کی وجہ بنی۔

مہاجرین اور امدادی عملہ متاثر

ذرائع کے مطابق فائرنگ کے بعد انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے عملے نے علاقہ چھوڑ دیا، جبکہ طالبان نے پاکستان سے بے دخل کیے گئے مہاجرین کے لیے قائم کیمپ بھی خالی کرا لیا اور واپس آنے والوں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ تورخم پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت اور تجارت کی سب سے اہم گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) کے مطابق جنوری سے اکتوبر 2026 کے اوائل تک چھ لاکھ سے زیادہ افراد اسی گزرگاہ سے افغانستان واپس گئے، جو پاکستان سے ریکارڈ شدہ کل واپسیوں کا تقریباً 85 فیصد بنتا ہے۔

سرحد پر کشیدگی کا پس منظر

تورخم پر کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ 11 اکتوبر کو شروع ہونے والی لڑائی کے بعد یہ گزرگاہ دو ہفتوں سے زیادہ بند رہی تھی، جس کے بعد اسے افغان مہاجرین کی واپسی اور تجارت کے لیے دوبارہ کھولا گیا تھا۔ لانگ وار جرنل کی 29 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق 19 اکتوبر کے بعد سے سرحد کے مختلف حصوں پر طالبان اور پاکستانی فورسز کے درمیان کم از کم تین بار جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں 28 اکتوبر کو تورخم کے قریب فائرنگ کا تبادلہ بھی شامل تھا۔ اوچا نے خبردار کیا تھا کہ 28 اکتوبر کی جھڑپوں میں ایک بچہ جاں بحق اور مہاجر خاندانوں کی مدد کرنے والا ایک امدادی کارکن زخمی ہوا تھا۔

سرکاری ردعمل کا انتظار

اہم بات یہ ہے کہ یکم نومبر کے اس تازہ واقعے کے بارے میں اب تک دونوں جانب سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ اس لیے فائرنگ کی شدت، اس کے دورانیے اور کسی ممکنہ نقصان کے بارے میں مقامی ذرائع کی اطلاعات ہی واحد ذریعہ ہیں، جنہیں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی اس کے لیے ریڈ لائن ہے، جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ تورخم کی صورتحال پر مزید تفصیلات سامنے آتے ہی یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: انگور اڈہ میں افغان طالبان کی چوکیاں تباہ https://niazitvnews.com/?p=2837 اور پاکستان افغانستان کشیدگی میں امریکا کا کردار https://niazitvnews.com/?p=3103

ماخذ: خامه پریس اور ہشت صبح ڈیلی کی یکم نومبر 2026 کی رپورٹیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *