الیکٹرک گاڑیاں سستی ہوں گی، آٹو پالیسی میں بڑی رعایت

0

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں خریدنا آئندہ برسوں میں سستا اور آسان ہو سکتا ہے، کیونکہ نئی آٹو موبائل پالیسی 2026-31 میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی ٹیکس رعایتیں، زیادہ فنانسنگ اور طویل قرض کی مدت تجویز کی گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ پالیسی منظور کی ہے، جس کا ہدف گاڑیوں کی برآمدات کو 2030-31 تک 6 ارب ڈالر اور آٹو پارٹس کی برآمدات کو 1.2 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔ اسی دوران پاکستان کو اکتوبر کے آخر میں 2 ہزار سے زیادہ الیکٹرک گاڑیوں کی پہلی رول آن رول آف (رورو) کھیپ بھی موصول ہوئی ہے، جو ملک میں کلین موبلٹی کی جانب ایک بڑا قدم قرار دی جا رہی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں پر کتنا ٹیکس ہوگا

پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کو ایک جیسا سلوک نہیں دیا گیا، بلکہ انہیں اقسام کے حساب سے الگ الگ سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ بیٹری الیکٹرک گاڑیوں (بی ای وی) پر صرف 1 فیصد سیلز ٹیکس، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں (آر ای ای وی) پر 6 فیصد اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں (پی ایچ ای وی) پر 9 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ 75 ہزار ڈالر سے زیادہ مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بھی تجویز کی گئی ہے، جو بہت کم خریداروں کو متاثر کرے گی۔

قرض اور فنانسنگ میں آسانی

عام خریداروں کے لیے سب سے بڑی خبر فنانسنگ میں آسانی ہے۔ پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرض کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے کرنے اور قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد الیکٹرک گاڑی کی لاگت واپس آنے کا دورانیہ اب صرف ڈیڑھ سال تک رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کے تنازع کے بعد سے پٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 54 فیصد اور ڈیزل میں تقریباً 43 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے الیکٹرک گاڑیوں کی بچت اور بھی واضح ہو گئی ہے۔

پہلی رورو کھیپ اور فروخت میں اضافہ

اکتوبر کے آخر میں ایم وی گرانڈے شنگھائی نامی جہاز کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوا، جس میں 2 ہزار سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں موجود تھیں۔ یہ پاکستان کی پہلی رورو کھیپ تھی، جسے عالمی کلین موبلٹی سپلائی چین میں پاکستان کے انضمام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور اسکوٹروں کی فروخت سال بہ سال تقریباً تین گنا ہو گئی ہے، جبکہ الیکٹرک کاروں کی فروخت دوگنی ہو گئی ہے۔ صنعت کے مبصرین کا اندازہ ہے کہ صرف 2026 کے دوسرے نصف میں تقریباً 20 نئی الیکٹرک، ہائبرڈ یا رینج ایکسٹینڈڈ ماڈل پاکستانی مارکیٹ میں آئیں گے۔

ابھی قانون نہیں، تجویز ہے

خریداروں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آٹو پالیسی کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ تمام رعایتیں فوری طور پر قانون بن گئی ہیں۔ پالیسی کا مسودہ وزارت قانون کو قانونی جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے، وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف سے جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے، اور متعلقہ قانون سازی دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کا ارادہ ہے کہ 2030-31 تک گاڑیوں پر ٹیرف کی شرح بتدریج کم کر کے 15 فیصد تک لائی جائے، اور 15 ہزار ڈالر سے کم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کم ٹیرف کی کیٹیگری بھی متعارف کرائی جائے۔ قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-30 کے تحت 2030 تک تقریباً 3 ہزار پبلک چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کا ہدف بھی موجود ہے۔
مزید پڑھیں: پٹرول پر ریفائنریز سے 49 روپے فی لیٹر کی وصولی https://niazitvnews.com/?p=3097 اور قطر سے دسمبر جنوری میں گیس فراہمی جاری رہے گی https://niazitvnews.com/?p=3115
ماخذ: ای وی انسائیڈ، ڈان نیوز اور وی نیوز کی نومبر 2026 کی رپورٹیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *