پولیو کا آٹھواں کیس: خیبر میں نیا کیس، کل سے مہم
پاکستان میں پولیو کا آٹھواں کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رپورٹ ہوا ہے، جس کے بعد رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔ قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق نئے کیس کے بعد خیبر پختونخوا میں کیسز کی تعداد چھ اور سندھ میں دو ہو گئی ہے۔ اسی کے ساتھ کل 2 نومبر سے ملک کے 97 منتخب اضلاع میں خصوصی ذیلی قومی پولیو مہم شروع ہو رہی ہے جو 8 نومبر تک جاری رہے گی اور اس میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
نیا کیس کہاں سامنے آیا
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے اتوار یکم نومبر کو تصدیق کی کہ رواں سال کا آٹھواں پولیو کیس ضلع خیبر سے سامنے آیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی 2026 میں پاکستان میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد آٹھ تک پہنچ گئی، جن میں چھ کا تعلق خیبر پختونخوا سے اور دو کا سندھ سے ہے۔ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے لیکن ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے، یہی وجہ ہے کہ حکام ہر مہم میں والدین سے بچوں کو قطرے پلانے کی اپیل کرتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پولیو کے زیادہ کیسز سامنے آنا اس بات کی علامت ہے کہ صوبے کے بعض علاقوں میں ویکسینیشن کی رسائی اور سیکیورٹی چیلنجز اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس میں بھی ماضی میں ان علاقوں میں اعلیٰ معیار کی ویکسینیشن سرگرمیوں میں مشکلات کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ اسی تناظر میں بنوں ڈویژن کو خاص طور پر چیلنج قرار دیا جاتا رہا ہے، جہاں سے رواں سال کئی کیسز رپورٹ ہوئے۔
کل سے شروع ہونے والی مہم کی تفصیل
قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق 2 سے 8 نومبر تک جاری رہنے والی ذیلی قومی مہم میں 97 منتخب اضلاع کو شامل کیا گیا ہے اور اس دوران پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین دی جائے گی۔ خیبر پختونخوا میں مہم 27 منتخب اضلاع میں چلے گی جہاں 48 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف ہے، جبکہ بلوچستان کے 31 اضلاع میں 22 لاکھ 17 ہزار بچوں کو ویکسین دی جائے گی۔ وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو عائشہ رضا فاروق نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم اور ہر آئندہ مہم میں اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔
خیبر پختونخوا کے ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے صوبائی سطح پر نومبر کے راؤنڈ کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ پشاور، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژنوں کے ساتھ باجوڑ، دیر بالا، دیر زیریں، چترال بالا، چترال زیریں، ایبٹ آباد، تورغر، کوہستان زیریں، کوہستان بالا اور کولائی پالس کے اضلاع میں مہم ایک ساتھ شروع ہوگی۔ پشاور اور خیبر اضلاع میں مہم سات دن جبکہ باقی منتخب اضلاع میں چار دن جاری رہے گی۔
بنوں میں سیکیورٹی اقدامات
مہم کے آغاز سے قبل بنوں کی ضلعی انتظامیہ نے ایک ہفتے کے لیے موٹر سائیکل پر سوار کے ساتھ سفر، اسلحے کی نمائش اور گاڑیوں میں رنگین شیشوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی دفعہ 144 کے تحت ڈپٹی کمشنر بنوں ضیاء الرحمان خٹک کے حکم پر یکم نومبر سے نافذ ہوئی اور 7 نومبر تک برقرار رہے گی۔ ضلعی پولیس افسر نے انتظامیہ کو بتایا تھا کہ بنوں میں پولیو مہم 2 سے 5 نومبر تک چلے گی اور ماضی میں پولیو ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے پیش نظر یہ احتیاطی اقدامات ضروری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر خٹک اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر شفیع اللہ گنڈاپور نے اتوار کو بنوں میں مہم کا باقاعدہ آغاز بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر کیا۔ بنوں میں 57 یونین کونسلوں میں پانچ سال سے کم عمر کے 2 لاکھ 28 ہزار بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت اور عوام کے تعاون کے بغیر اس مرض کا خاتمہ ممکن نہیں۔
والدین کے لیے کیا کرنا ضروری ہے
ماہرین صحت کے مطابق پولیو کا کوئی علاج نہیں لیکن ویکسین اس سے مکمل بچاؤ فراہم کرتی ہے، اس لیے ہر مہم میں بچوں کو قطرے پلانا اور معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کا شیڈول وقت پر مکمل کرنا نہایت ضروری ہے۔ قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں بھرپور ساتھ دیں۔ والدین کو چاہیے کہ مہم کے دوران پولیو ٹیموں کا استقبال کریں، بچوں کی ویکسینیشن کارڈ محفوظ رکھیں اور اگر کوئی بچہ مہم کے دوران قطرے پینے سے رہ جائے تو قریبی صحت مرکز سے رجوع کریں۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کئی دہائیوں سے جاری ہے اور حالیہ برسوں میں کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن خیبر جیسے نئے کیسز یہ یاد دلاتے ہیں کہ جب تک وائرس مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، ہر بچے تک ویکسین پہنچانا ضروری ہے۔ آئندہ ہفتے کی مہم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے اور اس کی کامیابی کا دارومدار والدین کے تعاون اور ٹیموں کی حفاظت پر ہے۔
مزید پڑھیں: پولیو مہم 2 نومبر سے: 2.4 کروڑ بچوں کو قطرے https://niazitvnews.com/?p=2896 اور پولیو مہم 2 نومبر سے — بھکر میں 3,72,590 بچوں کو قطرے https://niazitvnews.com/?p=2767
ماخذ: بزنس ریکارڈر، ڈیلی پاکستان اور اردو پوائنٹ (یکم نومبر 2026) کی رپورٹس۔