بلغاریہ صدارتی رن آف: یوٹووا اور گیوروف آمنے سامنے
بلغاریہ میں اتوار یکم نومبر کو صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ (رن آف) منعقد ہوا، جس میں موجودہ صدر الیانا یوٹووا اور مغرب نواز اپوزیشن امیدوار آندرے گیوروف کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولنگ اسٹیشن صبح سات بجے کھلے اور رات آٹھ بجے تک ووٹنگ جاری رہی، جبکہ قطاروں میں موجود ووٹرز کے لیے ووٹنگ رات نو بجے تک بڑھانے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔
پہلے مرحلے میں کیا ہوا تھا
پہلا مرحلہ 25 اکتوبر کو ہوا تھا، جس میں 27 امیدواروں نے حصہ لیا۔ یوٹووا نے تقریباً 35 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ گیوروف کو تقریباً 32 فیصد ووٹ ملے تھے۔ بلغاریہ کے آئین کے تحت پہلے مرحلے میں جیتنے کے لیے امیدوار کو نصف سے زیادہ درست ووٹوں کے ساتھ ساتھ مجموعی ٹرن آؤٹ کا بھی نصف سے زیادہ ہونا ضروری ہے۔ پہلے مرحلے میں ٹرن آؤٹ صرف 23 فیصد رہا، جو ملک کی تاریخ کا کم ترین ٹرن آؤٹ قرار دیا جا رہا ہے، اس لیے کسی امیدوار کو براہ راست فاتح قرار نہیں دیا جا سکا اور رن آف کرانا پڑا۔
رن آف میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا ٹکٹ صدر اور نائب صدر منتخب ہوگا۔ بلغاریہ کا مرکزی الیکشن کمیشن حتمی نتائج ووٹنگ کے تین روز کے اندر جاری کرے گا، جبکہ نئے صدر کی مدت موجودہ مدت ختم ہونے پر 22 جنوری 2027 سے شروع ہوگی۔
دونوں امیدواروں کا موقف
62 سالہ یوٹووا ایک تجربہ کار سیاستدان اور سابق صحافی ہیں، جو یورپی پارلیمنٹ کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ وہ 2016 اور 2021 میں سابق صدر رومن رادیف کے ساتھ نائب صدر منتخب ہوئیں، اور اس سال رادیف کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے استعفیٰ دینے کے بعد انہوں نے صدارت سنبھالی۔ یوٹووا بلغاریہ کی یورپی یونین اور نیٹو رکنیت کی حامی ہیں، لیکن ساتھ ہی روس سے مذاکرات کی حمایت کرتی ہیں اور یوکرین کو فوجی امداد دینے کی مخالفت کرتی ہیں۔
دوسری جانب 50 سالہ گیوروف سابق قائم مقام وزیر اعظم اور بلغاریہ کے قومی بینک کے سابق ڈپٹی گورنر رہ چکے ہیں۔ وہ مغرب سے تعلقات مضبوط کرنے اور یوکرین کی حمایت کے حامی ہیں۔ رن آف سے قبل ٹیلی ویژن مباحثے میں گیوروف نے یوٹووا کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے روس کو براہ راست ذمہ دار قرار دینے سے گریز کیا۔
بحیرہ اسود کی کشیدگی اور انتخاب کی اہمیت
یہ انتخاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر ڈرون حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جن میں تقریباً دو درجن بین الاقوامی ملاحوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ بلغاریہ نے ان حملوں کے لیے روس کو براہ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا ہے، لیکن اس معاملے پر دونوں امیدواروں کے موقف میں واضح فرق موجود ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ووٹرز اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ بحیرہ اسود کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کون سا امیدوار زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔
بلغاریہ میں سیاسی عدم استحکام بھی اس انتخاب کا پس منظر ہے، جہاں اپریل 2021 کے بعد سے آٹھ پارلیمانی انتخابات ہو چکے ہیں۔ صدارتی رن آف کا نتیجہ اس بات کا تعین کرے گا کہ بلغاریہ آئندہ برسوں میں روس کے ساتھ مذاکرات کی راہ اپناتا ہے یا مغرب کے ساتھ مزید قریبی تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔
مزید پڑھیں: یورپ اور عالمی سیاست سے متعلق ہماری یہ خبر پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3073 اور یورپ میں احتجاجی تحریکوں پر یہ خبر: https://niazitvnews.com/?p=3010
ذرائع: اے ایف پی، فرانس 24، ڈی ڈبلیو، الجزیرہ، سی جی ٹی این — یکم نومبر 2026