انگور اڈہ: افغان فائرنگ پر پاکستان کا جوابی وار

0

انگور اڈہ میں افغان سرحدی چوکیوں سے پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر کے مطابق پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پاکستانی علاقوں میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

فائرنگ کیسے شروع ہوئی

ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر نے اتوار یکم نومبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انگور اڈہ کے علاقے میں افغان سرحدی چوکیوں سے پاکستانی چوکیوں پر مسلسل فائرنگ کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق پاکستانی فورسز نے فوری اور مؤثر جواب دیا اور افغان سرحدی چوکیوں، مارٹر پوزیشنوں اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

جیو نیوز کی یکم نومبر کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پاکستانی فورسز کے سخت جواب کے بعد افغان طالبان اہلکار اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

27 اکتوبر کا پس منظر

یہ تازہ فائرنگ کا تبادلہ 27 اکتوبر کے واقعے کے چند روز بعد ہوا ہے۔ اس رات افغان طالبان فورسز نے انگور اڈہ بازار اور رہائشی مکانات پر بلا اشتعال فائرنگ کی تھی۔ ایک مارٹر گولہ رہائشی مکان پر گرنے سے ایک شہری جاں بحق اور خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے، جبکہ بازار کی کئی دکانیں بھی متاثر ہوئی تھیں۔

اس واقعے کے بعد پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرحد پار متعدد افغان چیک پوسٹوں کو تباہ کیا تھا۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے بعد میں بتایا تھا کہ اس کارروائی میں افغان طالبان کی سات چوکیاں تباہ ہوئیں۔ افغان وزارت دفاع کے اس بیان کو بھی مسترد کر دیا گیا تھا جس میں پاکستان پر جارحیت شروع کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

سرحد پر کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے

اسلام آباد بارہا افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت عسکریت پسند گروہوں کو افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر حملے کرنے سے روکے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ریڈ لائن عبور نہیں ہونے دی جائے گی، اور اس سلسلے میں پاکستان کا افغانستان کو سخت انتباہ بھی سامنے آ چکا ہے۔

خطے میں کشیدگی کے دوران سعودی عرب میں ڈرون حملوں سمیت مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی زیر بحث رہی ہے، تاہم انگور اڈہ کا واقعہ براہ راست پاک افغان سرحد سے متعلق ہے۔

اب تک کی صورتحال

ڈپٹی کمشنر کے مطابق پاکستانی سرحدی علاقوں میں اب تک کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ سیکیورٹی فورسز سرحد پر چوکس ہیں اور کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے اس تازہ تبادلے پر تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ خبر ابھی ترقی کر رہی ہے۔ مزید تفصیلات سامنے آنے پر اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

ذرائع: جیو نیوز، ایکسپریس ٹریبیون، اے آر وائی نیوز، منٹ مرر — یکم نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *