پاکستان افغانستان: امریکا کی ثالثی کا خیرمقدم
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکا کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی بامعنی مذاکرات کے لیے کابل کو دہشت گرد گروپوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی کرنا ہوگی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اتوار کو یہ موقف پیش کیا، جو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
دفتر خارجہ کا موقف کیا ہے
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے انڈیپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان امریکا سمیت دوست ممالک کی جانب سے افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں سہولت کاری کی مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم کرے گا۔ ان کے مطابق مذاکرات اسی صورت میں نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں جب افغان حکام دہشت گرد گروپوں کے خلاف واضح، مسلسل اور قابل تصدیق کارروائی کا عزم ظاہر کریں۔ ترجمان نے خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر ایسے گروپوں کا نام لیا جنہیں پاکستان دہشت گرد تنظیمیں قرار دیتا ہے اور جن کے بارے میں اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ وہ افغان سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان تعمیری روابط کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس سے پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات کا ٹھوس حل نکلے۔
روبیو نے کیا کہا تھا
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 31 اکتوبر کو اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ امریکا نے پاکستان کے خدشات سن لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن دہشت گردی کے خلاف ہے، چاہے وہ کہیں سے بھی ہو اور اس کا نشانہ کوئی بھی ہو، اور اگر امریکا کوئی تعمیری کردار ادا کر سکا تو وہ ضرور ادا کرے گا۔ روبیو نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکا کا طالبان کے ساتھ قریبی تعلق نہیں ہے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن کا کردار کس شکل میں ہوگا۔ اب تک کسی ملاقات، کسی خصوصی ایلچی یا کسی ٹائم ٹیبل کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کار اس پیشکش کو محتاط سفارتی اشارہ قرار دے رہے ہیں، نہ کہ کوئی طے شدہ ثالثی عمل۔
کابل کا ردعمل
دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹولو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ کابل ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے، تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ روبیو کے ریمارکس پاکستان کی فراہم کردہ یک طرفہ معلومات پر مبنی تھے۔ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ کشیدگی کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ ان کے بقول پاکستان نے جھڑپوں کا آغاز کیا تھا۔ کابل نے پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ یوں دونوں فریق ثالثی کے اصول پر تو رضامند نظر آتے ہیں، لیکن حقائق اور ذمہ داری کے سوال پر ان کے موقف ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ یہی فرق آئندہ مذاکرات کی سب سے بڑی آزمائش بن سکتا ہے۔
پس منظر: کشیدگی کیوں بڑھی
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ ہفتوں میں سرحدی جھڑپوں اور سخت بیانات کے باعث شدید کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں رواں سال 1327 افراد جاں بحق اور 2484 زخمی ہوئے ہیں، یہ اعداد پاکستانی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد نے 31 اکتوبر کو یہ بھی واضح کیا تھا کہ دہشت گردی اس کے لیے ریڈ لائن ہے اور وہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس سے قبل قطر، ترکیہ، چین اور روس کی جانب سے بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں سامنے آ چکی ہیں، لیکن اب تک کوئی مستقل حل سامنے نہیں آیا۔ اس تناظر میں امریکا کی پیشکش کو اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ واشنگٹن کا دہشت گردی کے خلاف موقف اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ دونوں فریقوں کے لیے معنی رکھتا ہے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے
فی الحال یہ واضح نہیں کہ امریکا کا کردار صرف سفارتی پیغام رسانی تک محدود رہے گا یا وہ کسی باقاعدہ مذاکراتی عمل کی میزبانی بھی کرے گا۔ پاکستان کی شرط واضح ہے: بات چیت سے پہلے یا بات چیت کے ساتھ ساتھ کابل کی جانب سے قابل تصدیق کارروائی۔ کابل کا موقف یہ ہے کہ اس کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ ان دونوں موقفوں کے درمیان کوئی عملی راستہ نکالنا ہی کسی بھی ثالث کی اصل آزمائش ہوگی۔
مزید پڑھیں: روبیو: امریکا پاکستان افغانستان کشیدگی میں کردار ادا کر سکتا ہے اور دہشت گردی ریڈ لائن ہے، پاکستان کا افغانستان کو سخت انتباہ۔
ذرائع: بزنس ریکارڈر، پاکستان ٹوڈے، عرب نیوز، ٹولو نیوز، دی پاکستان ڈیلی۔