پی پی پی کا اپوزیشن سے بائیکاٹ ختم کرنے کا مطالبہ

0

پاکستان پیپلز پارٹی نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں کا بائیکاٹ ختم کرے اور انتخابی اصلاحات کے عمل میں بھرپور حصہ لے۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ جمہوری روایات، آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ میں ذمہ دارانہ کردار ایک مضبوط اور مستحکم ریاست کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری چاہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں نمائندگی حاصل کریں، تاکہ یہ عمل جامع ہو اور انتخابی نظام پر اعتماد مضبوط ہو۔

بخاری کا بیان: آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی

نیر بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ پیپلز پارٹی کا سیاسی وژن ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی تعمیر پر مرکوز ہے، اور اس جماعت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ملک کو آئین دیا۔ انہوں نے سابق وزیراعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی پارلیمانی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف 17 نشستوں کے باوجود اپوزیشن کا کردار مؤثر انداز میں ادا کیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تعمیری پارلیمانی کردار کا تعلق تعداد سے نہیں، بلکہ رویے سے ہے۔

بخاری کے مطابق پارلیمانی کمیٹیاں قانون سازی اور جمہوری حکمرانی کا لازمی حصہ ہیں، اور مؤثر قانون سازی کے لیے تمام پارلیمانی جماعتوں کی شرکت ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیٹیوں میں پارلیمنٹ میں نمائندگی سے قطع نظر برابر نمائندگی کا مطالبہ متناسب نمائندگی کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کمیٹیوں میں واپس آ کر اپنی آئینی اور جمہوری ذمہ داریاں ادا کریں، بجائے اس کے کہ وہ قانون سازی کے عمل سے الگ تھلگ رہیں۔

انتخابی اصلاحات میں تاخیر پر تشویش

بخاری نے انتخابی اصلاحات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈھائی سال گزرنے کے باوجود انتخابی قوانین میں اصلاحات کے لیے قانون سازی نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کا مؤثر نفاذ ضروری ہے، اور اس کے ساتھ احتساب کے لیے انعام و سزا کا منصفانہ نظام بھی ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جامع انتخابی اصلاحات سے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات، الزامات اور اختلافات کم ہوں گے، جبکہ اپوزیشن کی شرکت قانون سازی کے عمل کو زیادہ جامع اور معتبر بنائے گی۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں سے تصادم کی سیاست سے آگے بڑھنے کی اپیل کی اور کہا کہ ہر اقدام کو مسترد کرنے کا رویہ ترک کر کے پارلیمنٹ میں ذمہ دارانہ اور تعمیری کردار ادا کیا جانا چاہیے۔ بخاری نے قائد حزب اختلاف سے یہ بھی کہا کہ وہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری کے معاملے پر وزیراعظم سے مشاورت کریں، کیونکہ آئینی عمل میں ان دونوں عہدوں کے درمیان مشاورت لازمی ہے۔

پس منظر: پی پی پی کی اپوزیشن سے رابطہ مہم

یہ مطالبہ اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جس میں پیپلز پارٹی گزشتہ ہفتے سے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 30 اور 31 اکتوبر کو سینیٹر شیری رحمان کی قیادت میں پی پی پی کے وفد نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی تھی اور انہیں کمیٹی میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی تھی۔ وفد میں نیر بخاری، وقار مہدی اور ندیم افضل چن شامل تھے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے محمود خان اچکزئی، نور الحق قادری اور سینیٹر علی ظفر بھی موجود تھے۔

رپورٹس کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے اس وقت کہا تھا کہ وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے، جبکہ قومی اسمبلی نے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری بھی دے دی تھی، جس میں ایوان زیریں کے 20 اور سینیٹ کے 10 ارکان شامل ہوں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں بھی اپوزیشن سے کہا تھا کہ اگر وہ مستقبل کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خدشات دور کرانا چاہتے ہیں تو انہیں اس کمیٹی میں حصہ لینا ہوگا۔

بخاری نے اپنے تازہ بیان میں اسی پیغام کو دہراتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم و قائد حزب اختلاف کے چیمبر کسی کی ذاتی ملکیت نہیں، بلکہ ریاست کے عہدے ہیں۔ انہوں نے سیاسی گفتگو میں غیر شائستہ زبان کے استعمال سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ ایسا رویہ پارلیمانی روایات کو کمزور کرتا ہے اور جمہوری ثقافت کو نقصان پہنچاتا ہے، جسے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر برقرار رکھنا چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے 28 ویں آئینی ترمیم سے متعلق موقف کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3045 — اور پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست سے متعلق تازہ خبر یہاں موجود ہے: https://niazitvnews.com/?p=3176

ماخذ: دی نیشن کی 2 نومبر 2026 کی رپورٹ اور ڈان و ٹریبیون کی 30 اور 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *