بیرسٹر سیف کا اچکزئی اور راجہ ناصر پر حملہ
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے اپوزیشن کے دو اہم رہنماؤں، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس پر سخت الزامات عائد کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہے۔ بیرسٹر سیف نے یہ باتیں جیو نیوز کے پروگرام “جرگہ” میں گفتگو کرتے ہوئے کہیں، جو یکم نومبر 2026 کو نشر ہوئی۔
بیرسٹر سیف کے مطابق، عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اس لیے بنوایا تھا تاکہ وہ حکومت سے بات چیت کر سکیں، لیکن وہ اس ذمہ داری کو پورا نہیں کر رہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اچکزئی وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ عمران خان کی رہائی پر مذاکرات کے لیے بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔
اچکزئی پر کیا الزامات لگے؟
بیرسٹر سیف نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے اپنی ہاری ہوئی نشست مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی مدد سے حاصل کی، لیکن اس کے باوجود وہ عمران خان کے معاملے پر وزیراعظم سے بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، مذاکرات کے اہم مرحلے پر اچکزئی کوئٹہ چلے گئے، جس سے بات چیت کا عمل متاثر ہوا۔
بیرسٹر سیف نے مزید دعویٰ کیا کہ اچکزئی نے اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے رابطہ کیا تھا۔ یہ تمام باتیں بیرسٹر سیف کے اپنے دعوے اور موقف کے طور پر سامنے آئی ہیں، اور اچکزئی کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی تفصیلی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔
راجہ ناصر عباس کے بارے میں کیا کہا گیا؟
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کے بارے میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی اہم شخصیات سے رابطے میں ہیں، لیکن ان کے بقول یہ رابطے عمران خان کی رہائی کے لیے نہیں ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ راجہ ناصر کی سوچ “ڈپٹی کمشنر، تحصیلدار اور پٹواری” تک محدود ہے۔
بیرسٹر سیف نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے راجہ ناصر کو سینیٹر بننے میں مدد کی تھی۔ ان بیانات سے اپوزیشن اتحاد کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، اور یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے اپوزیشن کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے۔
اپوزیشن اتحاد میں دراڑ کا پس منظر
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی اور اس کے اتحادی عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، جن میں قیادت اور مذاکراتی حکمت عملی پر مختلف آراء کا اظہار کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی کا تشویشناک بیان (https://niazitvnews.com/?p=1320) اور گنڈاپور کا سلمان اکرم راجہ کو سخت جواب (https://niazitvnews.com/?p=1297)۔
آگے کیا ہوگا؟
بیرسٹر سیف کے بیانات کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس ان الزامات کا کیا جواب دیتے ہیں، اور کیا اپوزیشن اتحاد اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرتا ہے۔ عمران خان کی رہائی کا معاملہ پاکستان کی سیاست میں بدستور سب سے اہم موضوع بنا ہوا ہے، اور اس پر ہر نیا بیان سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ خبر جیو نیوز اور منٹ مرر کی یکم نومبر 2026 کی رپورٹس پر مبنی ہے، جن میں بیرسٹر سیف کے پروگرام جرگہ میں دیے گئے بیانات کو نقل کیا گیا ہے۔
ماخذ: جیو نیوز اور منٹ مرر، یکم نومبر 2026