بیرون ملک لاپتہ 50 پاکستانیوں کیس کی سماعت آج
اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج پیر 2 نومبر کو بیرون ملک مبینہ طور پر لاپتہ 50 سے زائد پاکستانی شہریوں کی درخواست کی سماعت دوبارہ ہو رہی ہے۔ یہ درخواست ان نوجوانوں کی تلاش اور محفوظ واپسی کے لیے دائر کی گئی ہے جو روزگار کی تلاش میں غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک گئے تھے اور اس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل واحد رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کرے گا۔ واضح رہے کہ آج کی سماعت کے نتیجے سے متعلق ابھی کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے، اور اس رپورٹ میں سماعت کا کوئی نتیجہ پیشگی طور پر بیان نہیں کیا جا رہا۔
درخواست کیا ہے؟
یہ درخواست شہری افضال حسین شاہ نے اپنے وکیل شفقت عباس تارڑ کے ذریعے دائر کی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ وہ لاپتہ شہریوں کا سراغ لگائیں، ان کی شناخت اور مقام کی تصدیق کریں، انہیں قونصلر مدد فراہم کریں اور ان کی محفوظ واپسی میں مدد کریں۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیرون ملک پھنسے ہوئے یا کمزور حالت میں موجود شہریوں کو تحفظ دیا جائے اور ان کے اہل خانہ کو وقت پر پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔
گزشتہ سماعت میں عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کیے تھے اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو ہدایت دی تھی کہ وہ آج کی سماعت سے قبل اس معاملے پر رپورٹ پیش کریں۔ اسی ہدایت کے بعد کیس کی سماعت 2 نومبر تک ملتوی کی گئی تھی، اور آج کی سماعت میں اسی رپورٹ کا جائزہ لیے جانے کی توقع ہے۔
نوجوان کہاں سے گئے تھے؟
درخواست گزار کے وکیل نے گزشتہ سماعت میں عدالت کو بتایا تھا کہ منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ، گجرات، حافظ آباد اور ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد نوجوان اپریل 2024 سے جنوری 2025 کے درمیان الگ الگ کشتیوں میں افریقہ کے ملک موریطانیہ سے اسپین کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ وکیل کے مطابق وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے، اور اس کے بعد سے ان کے اہل خانہ کو ان کے مقام یا امیگریشن کی حیثیت کے بارے میں کوئی قابل اعتماد معلومات نہیں مل سکیں۔
درخواست میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار نے اس سے قبل وزیراعظم، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کو تحریری درخواستیں دے کر مداخلت کی اپیل بھی کی تھی۔ وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ وزارت خارجہ کو ہدایت دی جائے کہ وہ متعلقہ ممالک میں قونصلر تحقیقات شروع کرے اور پاکستانی سفارت خانوں اور قونصلیٹوں کے ذریعے لاپتہ شہریوں کا سراغ لگائے۔
عدالت سے کیا مانگا گیا ہے؟
درخواست میں عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ دستیاب امیگریشن، سفری اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے کر لاپتہ پاکستانیوں کا مقام معلوم کیا جائے اور ان کی محفوظ واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آیا ان میں سے کوئی شہری کسی نامعلوم مقام پر پھنسا ہوا ہے، اسے ملک بدر کر دیا گیا ہے، یا وہ کسی اور صورتحال میں کسی ملک میں موجود ہے — ان تمام امکانات کی جانچ کی جائے۔
یہ کیس ان خاندانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جو گزشتہ تین برس سے اپنے پیاروں کے بارے میں کسی خبر کے منتظر ہیں۔ انسانی حقوق اور غیر قانونی نقل مکانی کے ماہرین کے مطابق ایسے کیسز میں قونصلر تحقیقات اور سفارتی رابطے ہی وہ راستہ ہیں جن سے لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جا سکتا ہے، تاہم کئی مرتبہ متعلقہ ممالک سے معلومات حاصل کرنے میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔
اسلام آباد سے متعلق دیگر خبریں یہاں پڑھیں: اسلام آباد میں مارکی میں آگ کا واقعہ https://niazitvnews.com/?p=3119 — اور اسلام آباد پولیس کی موبائل وین سروس کی تفصیل یہاں موجود ہے: https://niazitvnews.com/?p=3196
ماخذ: دی نیشن کی 2 نومبر 2026 کی رپورٹ اور ڈان کی 7 اکتوبر 2026 کی رپورٹ۔