بلغاریہ: یوٹووا صدارتی رن آف جیت گئیں

0

بلغاریہ کی قائم مقام صدر ایلیانا یوٹووا نے یکم نومبر کو ہونے والے صدارتی رن آف میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق انہوں نے تقریباً 58 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف آندرے گیوروف نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ اگر سرکاری نتائج ان اعداد کی تصدیق کرتے ہیں تو یوٹووا بلغاریہ کی پہلی منتخب خاتون سربراہ مملکت بن جائیں گی۔

ابتدائی نتائج کیا بتاتے ہیں

بلغاریہ کے مرکزی الیکشن کمیشن کے ابتدائی اعداد کے مطابق، جب 17.39 فیصد پروٹوکول کی گنتی مکمل ہوئی تو یوٹووا اور ان کے نائب صدارتی امیدوار کریل والچیف کو 57.943 فیصد ووٹ ملے، جبکہ گیوروف اور جارجی کاندیف کو 39.007 فیصد ووٹ ملے۔ بعد میں گنتی آگے بڑھنے پر کئی پولنگ اداروں کے تخمینوں میں یوٹووا کا حصہ 57.4 سے 58.2 فیصد کے درمیان رہا اور گیوروف کا حصہ 38.6 سے 39.6 فیصد کے درمیان بتایا گیا۔

گیوروف نے نتائج سامنے آنے کے بعد شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ بلغاریہ کے شہریوں نے اسی طرح ووٹ دیا ہے اور نتائج کو جیسا ہے ویسا قبول کرنا چاہیے۔ سرکاری حتمی نتائج پیر کو متوقع ہیں، اس لیے یہ کامیابی ابھی ابتدائی نتائج کی بنیاد پر رپورٹ کی جا رہی ہے۔

پہلا مرحلہ اور ٹرن آؤٹ

25 اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے میں یوٹووا نے تقریباً 35 فیصد اور گیوروف نے تقریباً 32 فیصد ووٹ لیے تھے، جس کے بعد کسی امیدوار کو اکثریت نہ ملنے پر رن آف کرانا پڑا۔ پہلے مرحلے میں ٹرن آؤٹ صرف 23 فیصد رہا تھا جو بلغاریہ کی تاریخ میں سب سے کم تھا۔ دوسرے مرحلے میں شرکت کا تخمینہ 27 سے 29 فیصد کے درمیان لگایا گیا ہے، جو پہلے مرحلے سے کچھ بہتر ہے لیکن پھر بھی کم ہے۔

یوٹووا 62 سال کی ہیں اور وہ اس سال کے شروع میں اس وقت قائم مقام صدر بنی تھیں جب اس وقت کے صدر رومن رادیف نے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے عہدہ چھوڑا تھا۔

یوٹووا کا موقف اور انتخابی پس منظر

یوٹووا روس کے ساتھ مذاکرات کی حامی اور یوکرین کو فوجی امداد کے مخالف کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کے حریف گیوروف، جو سابق نگراں وزیر اعظم اور بینکر ہیں، کو مغرب نواز اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ انتخابی مہم کے دوران یوٹووا کی قیادت میں پیغام قومی مفاد اور مذاکرات پر مرکوز رہا۔

یہ انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب بلغاریہ کے قریب بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر ڈرون حملوں کے واقعات نے سیکیورٹی خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اکتوبر میں ان حملوں کے دوران 21 افراد لاپتہ ہوئے تھے، جسے روس یوکرین جنگ کے اثرات سے جوڑا جا رہا ہے۔

صدارت کا کردار اور آگے کا راستہ

بلغاریہ میں صدر کا عہدہ بڑی حد تک رسمی ہے، لیکن صدر خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں اہم آواز رکھتا ہے۔ نئی مدت 22 جنوری 2027 سے شروع ہوگی۔ سرکاری نتائج کی تصدیق کے بعد یوٹووا کی کامیابی کو حتمی شکل مل جائے گی۔

اس سے قبل ناظرین نے کم ٹرن آؤٹ کو حکومت پر عدم اعتماد اور سیاسی بے حسی سے جوڑا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی منتخب صدر کم شرکت کے باوجود قومی اتفاق رائے کیسے بناتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بلغاریہ میں صدارتی رن آف کے ووٹنگ والے دن کی تفصیلات ہماری پہلی رپورٹ میں دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=3159
اور یورپ کی سیاسی صورتحال پر ہماری دیگر خبروں کے لیے دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=3073

ماخذ: الجزیرہ، فرسٹ پوسٹ، منی کنٹرول اور بلغاریہ کے مرکزی الیکشن کمیشن کے ابتدائی اعداد، 2 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *