تیل کی قیمت گر گئی، برینٹ 110 ڈالر فی بیرل
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت پیر 2 نومبر کو ایک فیصد سے زیادہ گر گئی ہے، جس کے بعد برینٹ کروڈ تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صبح کی تجارت میں برینٹ کروڈ 1.59 ڈالر یا 1.40 فیصد کمی سے 111.84 ڈالر فی بیرل پر تھا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 1.56 ڈالر یا 1.50 فیصد گر کر 102.56 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ ایشیائی تجارت کے دوران بعد میں برینٹ میں کمی بڑھ کر 2.9 فیصد تک پہنچ گئی اور قیمت 110.19 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 3 فیصد گر کر 100.99 ڈالر فی بیرل پر تھا۔
قیمت کیوں گری
قیمت میں کمی کی بنیادی وجہ ایران اور قطر کے درمیان جاری مذاکرات ہیں۔ ایرانی اور قطری حکام نے اتوار کو مسلسل تیسرے روز دوحہ میں بات چیت کی، جس کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا کہ جاری مشاورت کا مقصد قطری ثالثوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا ہے، اور تہران دفاع اور سفارت کاری دونوں کے لیے تیار ہے۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق، گزشتہ ہفتے کی تیزی کے بعد تیل میں تکنیکی تصحیح ہو رہی ہے اور سفارتی پیش رفت کی امید نے فوری دباؤ کچھ کم کر دیا ہے۔ ان کے بقول، ہفتے کے آخر میں کسی بڑی فوجی کشیدگی کی عدم موجودگی نے بھی قیمتوں کو نیچے لانے میں مدد دی۔
اکتوبر کی تیزی کا پس منظر
برینٹ نے اکتوبر کا اختتام چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر کیا تھا، کیونکہ مارکیٹ کو خدشہ تھا کہ امریکہ کے 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکہ ایران تنازع پھر شدت اختیار کر سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے ایران پر نئے حملے نہیں کریں گے اور مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیا ہے، تاہم اس کے بعد فوجی کارروائی کا امکان مسترد نہیں کیا۔ اسی لیے تاجروں کی نظریں اب انتخابات کے بعد کے بیانات پر لگی ہوئی ہیں۔
واٹرر نے خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ اب بھی محتاط ہے، اور انتخابات کے بعد ایران سے متعلق بیان بازی تیز ہوئی تو برینٹ 120 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتا ہے۔ یعنی موجودہ کمی کو مستقل رجحان سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
اوپیک پلس کا فیصلہ اور سونے کی قیمت
دوسری جانب، اوپیک پلس ممالک نے اتوار کو دسمبر کے لیے اپنی پیداواری اہداف برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، جس سے سپلائی کے حوالے سے کوئی نیا جھٹکا نہیں آیا۔ ادھر سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا، جو جمعے کو ایک سال سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر بند ہونے کے بعد تقریباً 0.9 فیصد بڑھ کر 3,910 ڈالر فی اونس کے قریب پہنچ گیا۔
یاد رہے کہ فروری میں شروع ہونے والی امریکہ اسرائیل ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر حملوں نے عالمی توانائی اور شپنگ لاگت کو بڑھا دیا تھا، جس کا اثر پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر بھی پڑا تھا۔ اس لیے عالمی قیمت میں کمی پاکستانی صارفین کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ ہے، اگرچہ مقامی پیٹرول قیمتوں کا تعین حکومت اور اوگرا کے اپنے شیڈول کے مطابق ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب کیا ہے
پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمت میں کمی درآمدی بل اور تجارتی خسارے پر دباؤ کم کر سکتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک دن کی کمی سے مقامی قیمتوں پر فوری اثر کی توقع نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ حکومت مقامی نرخوں کا جائزہ مخصوص وقفوں سے لیتی ہے اور روپے کی قدر بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں ٹینکرز پر حملوں سے متعلق ہماری رپورٹ دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=2937
اور نومبر میں ایل پی جی کی قیمتوں سے متعلق خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2995
ماخذ: رائٹرز، بلومبرگ، دی ہندو بزنس لائن، ٹائمز آف انڈیا، منی کنٹرول اور ڈیکن ہیرالڈ، 2 نومبر 2026۔