ہرمز: 4 ٹینکرز میں آگ، امریکا کا مائن کلیئرنس کا دعویٰ
آبنائے ہرمز میں چار تیل بردار ٹینکرز میں آگ لگنے کے ایرانی دعوے اور امریکا کے مائن کلیئرنس کے دعوے نے دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہ پر کشیدگی کو نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ ٹینکرز مائنز سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آئے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ آبنائے کے مرکزی بین الاقوامی راستے مائنز سے صاف کر دیے گئے ہیں اور تجارتی جہاز آزادانہ گزر رہے ہیں۔
ایران کا دعویٰ: چار ٹینکرز آگ کی لپیٹ میں
ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے جمعہ 30 اکتوبر کو کہا کہ تین ٹینکرز عمان کے ساحل کے قریب غیر مجاز جنوبی راستے پر مائنز سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ بعد ازاں ایرانی فوج نے بتایا کہ ایک چوتھا ٹینکر بھی آبنائے کے مشرق میں مائنز سے ٹکرانے کے بعد جل اٹھا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان میں سے ایک ٹینکر میں 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل موجود تھا۔
ایران نے ان جہازوں کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں اور یہ دعوے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکے ہیں۔ تاہم عمان کے میری ٹائم سیکیورٹی سینٹر نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جلتے ہوئے ایک خام تیل بردار ٹینکر سے 25 عملے کے ارکان کو بچا لیا ہے۔ عمانی حکام کے مطابق یہ جہاز پاناما کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔
امریکا کا جواب: راستے صاف، جہاز آزادانہ گزر رہے ہیں
امریکی سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے جمعہ کو کہا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مرکزی راستوں کو ایرانی سمندری مائنز سے صاف کر دیا گیا ہے۔ سینٹ کام کی جانب سے جاری کردہ ایک پوسٹ کے مطابق ایڈمرل کوپر نے آبنائے کے فضائی جائزے کے دوران درجنوں تجارتی جہازوں کو بغیر رکاوٹ گزرتے دیکھا۔
ایران نے اس دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اپنے موقف کو آزادانہ شواہد سے ثابت کرے، نہ کہ محض ایک بیان سے۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی حقیقت ہوا، زمین اور سمندر میں طے ہوتی ہے، نہ کہ سوشل میڈیا پر۔
عمان کے قریب ٹینکر پر الگ حملہ
برطانوی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے ایک الگ واقعے کی اطلاع دی ہے جس میں عمان کے خصب شہر سے تقریباً 25 ناٹیکل میل شمال مشرق میں ایک ٹینکر پر ایک چھوٹی کشتی سے دو دھماکا خیز آلات نصب کیے گئے۔ دھماکوں سے انجن روم میں آگ لگ گئی اور جہاز عارضی طور پر ناکارہ ہو گیا، تاہم عملہ محفوظ رہا اور بعد میں آگ بجھا دی گئی۔ سمندری سلامتی کے ذرائع نے اس جہاز کی شناخت پاناما کے پرچم والے ٹینکر لوئیز ون کے طور پر کی ہے۔
اکتوبر میں حملوں کی ریکارڈ تعداد، تیل 117 ڈالر
یو کے ایم ٹی او کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور خلیج عرب میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر گئی ہے، جو فروری 28 کو شروع ہونے والی ایران امریکا جنگ کے دوران کسی بھی مہینے کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ ستمبر کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 145 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
تیل کی عالمی منڈی نے بھی اس کشیدگی پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ برینٹ خام تیل جمعہ کو ایشیائی تجارت میں 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا اور مسلسل چوتھے مہینے اضافے کی جانب گامزن ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی توانائی کی فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی رکاوٹ کا اثر پاکستان سمیت درآمدی ممالک پر پڑتا ہے۔
ایران امریکا کشیدگی کے سفارتی پہلو کے لیے ایران امریکا مسودے کی رپورٹ اور خطے کی تازہ صورتحال بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
ذرائع: روئٹرز، سینٹ کام، یو کے ایم ٹی او، دی نیشنل، 31 اکتوبر 2026۔