اسرائیل: نئی کنیسٹ کی تیاری، فیکشن چیئرز مقرر

0

اسرائیل میں 10 نومبر کو 26ویں کنیسٹ کی حلف برداری سے قبل سیاسی جماعتوں نے اپنے فیکشن چیئرز مقرر کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنما گاڈی آیزن کوٹ نے نومنتخب رکن روئی فوکمین کو اپنی جماعت یاشر کا فیکشن چیئر مقرر کیا ہے، جبکہ سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ایتان گنزبرگ کو اپنی جماعت بی یاچاد کا فیکشن چیئر نامزد کیا ہے۔

آیزن کوٹ اور بینیٹ کی نامزدگیاں

سابق فوجی سربراہ اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اہم حریف گاڈی آیزن کوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ انہوں نے نومنتخب کنیسٹ رکن روئی فوکمین کو 26ویں کنیسٹ میں اپنی جماعت کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ آیزن کوٹ کی جماعت یاشر نے انتخابات میں 21 نشستیں حاصل کی ہیں اور وہ حزب اختلاف کے بلاک کی سب سے بڑی جماعت ہے۔
دوسری جانب بی یاچاد کے سربراہ نفتالی بینیٹ نے سابق رکن کنیسٹ ایتان گنزبرگ کو اپنی جماعت کا فیکشن چیئر مقرر کیا ہے۔ گنزبرگ گزشتہ پارلیمنٹ میں بلیو اینڈ وائٹ کے رکن تھے۔ فیکشن چیئر جماعتی حکمت عملی، ارکان کی نظم و ضبط اور پارلیمانی امور کی نگرانی کا اہم انتظامی عہدہ ہوتا ہے۔

حتمی نتائج اور 10 نومبر کی حلف برداری

یہ تقرریاں اس وقت ہو رہی ہیں جب اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے جمعہ کو قومی انتخابات کے حتمی نتائج شائع کر دیے ہیں۔ حتمی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے حامی بلاک نے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل کی ہیں، جو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے 8 کم ہیں۔ حزب اختلاف کے بلاک نے 48 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ دو عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر ریکارڈ 19 نشستیں جیتی ہیں۔
لیکود 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی واحد جماعت ہے۔ حزب اختلاف میں یاشر کی 21، بی یاچاد کی 12، ڈیموکریٹس کی 8 اور اسرائیل بیتینو کی 7 نشستیں ہیں۔ عرب جماعتوں میں جوائنٹ لسٹ نے 11 اور راعم نے 8 نشستیں حاصل کی ہیں۔ منگل کو ہونے والے انتخابات میں ٹرن آؤٹ 77.9 فیصد رہا، جو کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔

حکومت سازی کا تعطل برقرار

حتمی نتائج 4 نومبر کو صدر اسحاق ہرزوگ کو پیش کیے جائیں گے، جس کے بعد وہ حکومت بنانے کے لیے کسی رہنما کو نامزد کریں گے۔ تاہم نہ نیتن یاہو کا بلاک اور نہ ہی حزب اختلاف عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر اکثریت حاصل کر سکتا ہے، اس لیے حکومت سازی کا تعطل برقرار ہے۔ نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون سے انکار کر رکھا ہے، جس سے ان کا راستہ مزید مشکل ہو گیا ہے۔
دوسری جانب انتخابات میں دھاندلی اور غیر ملکی مداخلت کے لیکود کے الزامات کو مرکزی انتخابی کمیٹی اور شن بیت نے مسترد کر دیا ہے۔ قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیونے نے کہا ہے کہ انتخابات قانون کے مطابق ہوئے اور منظم خلاف ورزیوں کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ شن بیت غیر ملکی فنڈنگ کے مشتبہ الزامات کی محدود تحقیقات کر رہا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس سے حتمی نتائج یا حلف برداری متاثر نہیں ہوگی۔
اسرائیل میں حکومت سازی کے تعطل کی پیش رفت کے لیے حکومت سازی کے تعطل کی رپورٹ اور حتمی نتائج کی رپورٹ بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔

ذرائع: ٹائمز آف اسرائیل، ٹریبیون، ہارٹز، 30 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *