اسپین ٹرین حادثہ: تحقیقات جاری، 70 خاندان منتظر
اسپین کے صوبہ ٹولیڈو میں بدھ کو پیش آنے والے تیز رفتار ٹرین حادثے میں کم از کم 69 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور جمعہ 31 اکتوبر کو بھی تحقیقات جاری رہیں جبکہ تقریباً 70 خاندانوں نے اپنے گمشدہ پیاروں کی رپورٹیں پولیس کو درج کرا رکھی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملبے کی تلاش ابھی مکمل نہیں ہوئی، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔
حادثہ کیسے پیش آیا
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ٹائم لائن کے مطابق بدھ کی صبح 8 بج کر 31 منٹ پر میڈرڈ۔سیویل لائن پر حفاظتی نظام سے منسلک مواصلاتی نظام بند ہو گیا۔ یہ نظام ایل زیڈ بی کہلاتا ہے، جو ڈیجیٹل سینسرز کے ذریعے ٹرینوں کی پوزیشن پر نظر رکھتا ہے اور تصادم سے بچنے کے لیے خودکار طور پر بریک لگا سکتا ہے۔ نظام کی خرابی کے بعد میڈرڈ کے کنٹرول سینٹر میں بیٹھے کنٹرولرز نے 63 کلومیٹر طویل حصے پر ٹرینوں کی نگرانی سنبھال لی۔
صبح 8 بج کر 36 منٹ پر ایک کنٹرولر نے سرکاری کمپنی رینفے کی ٹرین کو دوبارہ معمول کی رفتار سے چلنے کی اجازت دے دی، جبکہ تقریباً 25 کلومیٹر آگے نجی کمپنی ایریو کی ٹرین دوبارہ اسٹارٹ نہ ہو سکی۔ ایریو کے عملے نے کنٹرول سینٹر کو اطلاع بھی دی، لیکن رینفے کی ٹرین کو روکنے کا حکم نہ دیا گیا۔ صبح 8 بج کر 53 منٹ پر رینفے کی ٹرین نے کھڑی ایریو ٹرین کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تصادم کے وقت رینفے ٹرین کی رفتار 160 سے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان تھی، جس سے کئی ڈبے پٹری سے اتر گئے اور کچھ کھائی میں جا گرے۔
وزیر کا الزام اور یونینوں کا جواب
اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ اوسکار پوئنٹے نے کنٹرول سینٹر کے فیصلے کو “ناقابل فہم” اور “غلط” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ٹرین کے کھڑے ہونے کے باوجود دوسری ٹرین کو پوری رفتار سے چلنے کی اجازت دینا کنٹرول سینٹر کی غلطی تھی۔ وزیر پر خود بھی مستعفی ہونے کا دباؤ ہے، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ کسی ملازم کو ڈھال نہیں بنائیں گے، لیکن معلومات کنٹرول سینٹر کی غلطی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
دوسری جانب ریلوے یونینوں نے اس موقف کو مسترد کر دیا ہے۔ ٹریفک کنٹرولرز کی یونین ایس سی ایف کی ترجمان راکیل ایلون نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ کنٹرولرز پر کام کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور موجودہ عملہ اسے محفوظ طریقے سے سنبھال نہیں سکتا۔ ان کے مطابق انسانی غلطی ناقابل فہم نہیں، بلکہ ناقابل فہم یہ ہے کہ حفاظتی نظام بار بار خراب ہو رہا ہے۔ ٹرین انجینئرز کی یونین سیماف کا کہنا ہے کہ تین دہائی پرانا ایل زیڈ بی نظام بار بار آف لائن ہو جاتا ہے اور اسے بہت پہلے تبدیل کر دینا چاہیے تھا۔ وزیر نے تسلیم کیا کہ یہ نظام اس سال 170 مرتبہ آف لائن ہوا، تاہم ان کے بقول یہ تعداد معمول کے مطابق ہے۔
شناخت اور تلاش کا عمل
جمعہ کو بھی پولیس کے کتے ملبے میں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف رہے، اور کرینوں کے ذریعے تباہ شدہ ڈبے ہٹائے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک صرف چند لاشوں کی شناخت ہو سکی ہے، جبکہ درجنوں خاندان ڈی این اے کے نمونے دے چکے ہیں۔ 200 سے زائد زخمیوں میں سے 39 افراد جمعہ تک اسپتالوں میں زیر علاج تھے۔ اسپین کی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کر رکھا ہے، اور وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ اس حادثے سے تیز رفتار ریل نظام پر اعتماد کو شدید دھچکا لگا ہے۔
سیاسی دباؤ اور جنوری کا حادثہ
یہ رواں سال میڈرڈ۔سیویل لائن پر دوسرا بڑا حادثہ ہے۔ جنوری میں اسی لائن پر ایک اور تصادم میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ دونوں حادثوں میں رینفے اور ایریو کی ٹرینیں ملوث تھیں۔ اسپین کا تیز رفتار ریل نیٹ ورک چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا نیٹ ورک ہے، اور اس سال سے پہلے تین دہائیوں میں اس میں کوئی مہلک حادثہ ریکارڈ نہیں ہوا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی لبرلائزیشن کے بعد مسافروں کی تعداد 2019 میں 3 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 2024 میں 4 کروڑ 90 لاکھ ہو گئی، لیکن لائنوں کی دیکھ بھال اس رفتار سے نہیں بڑھی۔ حادثے کی تحقیقات ایک جج اور حکومت کی خصوصی کمیٹی کر رہی ہے، اور ٹرینوں کے بلیک باکس سول گارڈ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
اس سے قبل اسپین ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 69 تک پہنچنے کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2662
میڈرڈ میں حادثے کے بعد احتجاج اور سوگ کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2622
ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس، 1 نیوز، این ایچ کے ورلڈ، اے ایف پی