امریکی مڈٹرم الیکشن کل، کانگریس کا کنٹرول داؤ پر
امریکہ میں مڈٹرم انتخابات کل منگل 3 نومبر 2026 کو ہوں گے، جن میں تقریباً 21 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز یہ فیصلہ کریں گے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی باقی مدت صدارت کے لیے کتنا اختیار حاصل رہے گا۔ ٹرمپ خود بیلٹ پر نہیں ہیں، لیکن امریکی کانگریس کا کنٹرول داؤ پر ہے، جو ملک کے قوانین بناتی ہے اور وفاقی اخراجات کو کنٹرول کرتی ہے۔
کیا کیا انتخاب کے لیے پیش ہے
مڈٹرم انتخابات صدر کی چار سالہ مدت کے عین وسط میں ہوتے ہیں اور ان میں کانگریس کی تشکیل طے ہوتی ہے۔ اس بار ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔ سینیٹ کی ان نشستوں میں فلوریڈا اور اوہائیو کے خصوصی انتخابات بھی شامل ہیں، جو وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس کی خالی کی گئی نشستوں کو پر کرنے کے لیے ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 36 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی ہوگا۔
ایوان نمائندگان کے ارکان دو سالہ مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں، جبکہ سینیٹرز چھ سال تک خدمات انجام دیتے ہیں، اس لیے ہر دو سال بعد سینیٹ کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہی انتخاب کے لیے پیش ہوتا ہے۔ نئی کانگریس 3 جنوری 2027 کو حلف اٹھائے گی۔
ایوان اور سینیٹ میں طاقت کا توازن
اس وقت دونوں ایوانوں میں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ ایوان نمائندگان میں ریپبلکنز کے پاس 218 اور ڈیموکریٹس کے پاس 214 نشستیں ہیں، جبکہ چند نشستیں خالی ہیں یا آزاد ارکان کے پاس ہیں۔ سینیٹ میں ریپبلکنز کے پاس 53 نشستیں ہیں، ڈیموکریٹس کے پاس 45 اور دو آزاد ارکان ڈیموکریٹس کے ساتھ بیٹھتے ہیں، جس سے ڈیموکریٹک بلاک 47 تک پہنچتا ہے۔
سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو خالص چار نشستوں کا اضافہ درکار ہے، یعنی 51 نشستیں۔ اگر سینیٹ 50-50 برابر رہی تو بھی کنٹرول ریپبلکنز کے پاس رہے گا، کیونکہ نائب صدر جے ڈی وینس ٹائی توڑنے والا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ ایوان میں ڈیموکریٹس کو اکثریت کے لیے صرف چند نشستوں کے خالص اضافے کی ضرورت ہے، اور متعدد پیش گوئیوں میں انہیں ایوان جیتنے کا امکان زیادہ بتایا گیا ہے۔
نتیجہ ٹرمپ کی صدارت پر کیوں اثر انداز ہوگا
اگر ڈیموکریٹس کسی ایک ایوان میں بھی کامیاب ہو گئے تو وہ ٹرمپ انتظامیہ کے قانون سازی کے ایجنڈے کو روک سکیں گے اور اس کی تحقیقات شروع کر سکیں گے۔ ایوان کا کنٹرول ملنے پر ڈیموکریٹس کو کمیٹیوں کی صدارت، طلبی کے اختیارات اور مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اختیار مل جائے گا، اگرچہ صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ سینیٹ کا کنٹرول کابینہ اور وفاقی ججوں سمیت صدارتی تقرریوں کو روکنے کا اختیار دے گا۔
دوسری جانب، اگر ریپبلکنز دونوں ایوان برقرار رکھتے ہیں تو ٹرمپ کو اپنی پالیسیاں آگے بڑھانے میں آسانی رہے گی۔ حتیٰ کہ ڈیموکریٹس دونوں ایوان جیت بھی جائیں تو ٹرمپ کے پاس ویٹو کا اختیار باقی رہے گا، جسے مسترد کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت چاہیے ہوگی۔
قبل از وقت ووٹنگ اور اہم ریاستیں
قبل از وقت ووٹنگ میں اس بار ریکارڈ شرکت دیکھی گئی ہے، جس کے اعداد ہماری گزشتہ رپورٹ میں تفصیل سے آ چکے ہیں۔ قریب سے دیکھے جانے والے سینیٹ مقابلوں میں مین، اوہائیو، نارتھ کیرولائنا، آئیووا اور جارجیا شامل ہیں، جبکہ ٹیکساس، اوہائیو اور مشی گن میں اشتہارات پر سب سے زیادہ خرچ ہوا ہے۔ ٹیکساس میں ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی پارٹی ہار گئی تو نتائج ان کے لیے شدید ہو سکتے ہیں۔
تاریخی طور پر صدر کی جماعت مڈٹرم انتخابات میں نشستیں کھوتی ہے، اور اس بار بھی جائزوں میں ڈیموکریٹس کے لیے ایوان میں بڑی کامیابی کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جبکہ سینیٹ کا مقابلہ زیادہ سخت بتایا جا رہا ہے۔ حتمی نتائج کا اعلان قریبی مقابلوں میں کئی دن یا ہفتے بھی لے سکتا ہے، اس لیے انتخابی رات کے ابتدائی اعداد کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
عالمی اثرات
امریکی انتخابات کے نتائج کا اثر صرف امریکہ تک محدود نہیں رہے گا۔ کانگریس کی تشکیل یوکرین کی امداد، چین کے ساتھ تجارتی پالیسی، ایران کے معاملے پر امریکی رویے اور عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی منڈیاں اور حکومتیں 3 نومبر کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: مڈٹرم انتخابات میں قبل از وقت ووٹنگ کے ریکارڈ پر ہماری رپورٹ دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=3153
اور انتخابی عمل پر عدالتی پابندی سے متعلق خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2997
ماخذ: الجزیرہ، انڈین ایکسپریس، نکی ایشیا، سی این بی سی ٹی وی 18، بزنس ٹوڈے اور خلیج ٹائمز، 2 نومبر 2026۔