پیرس احتجاج: پٹرول بم پر قتل کی کوشش کی تحقیقات
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں پر پٹرول بم پھینکنے کے واقعے پر فرانسیسی استغاثہ نے قتل کی کوشش کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ تحقیقات اس وقت شروع کی گئیں جب ایک اہلکار کی ٹانگ میں آگ لگنے کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
پیرس میں کیا ہوا
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہفتے کو فرانس بھر میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی کے خلاف تیسرے ہفتے بھی احتجاج ہوا، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ پیرس سمیت کئی شہروں میں مظاہرے زیادہ تر پرامن رہے، لیکن بعض مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پیرس پولیس پریفیکچر کے مطابق کئی سو فسادیوں نے سیکیورٹی اہلکاروں پر مختلف اشیا پھینکیں، جن میں پٹرول بم بھی شامل تھے۔
ڈرامائی تصاویر اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک گھریلو ساختہ آتش گیر آلہ حفاظتی لباس پہنے ایک اہلکار کے قدموں میں پھٹا اور اس کی ٹانگ میں آگ لگ گئی۔ دو ساتھی اہلکار آگ بجھانے کی کوشش کرتے نظر آئے، جب کہ سفید ٹی شرٹ اور اسٹرا ہیٹ پہنے ایک شخص نے ننگے ہاتھوں سے آگ بجھانے کی کوشش کی۔ بعد میں اس اہلکار نے بتایا کہ وہ شخص دراصل مدد کے لیے آیا تھا، جس کا وہ شکر گزار ہے۔
تحقیقات اور گرفتاریاں
پیرس استغاثہ کے دفتر نے اے ایف پی کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور تصاویر کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ استغاثہ نے بلیک بلاک طرز کے سیاہ لباس پہنے تین افراد کو مشتبہ افراد کے طور پر شناخت کیا ہے، تاہم ابھی تک اس حملے کے سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ تحقیقات “عوامی اختیار رکھنے والے افراد کے قتل کی کوشش” کے الزام کے تحت شروع کی گئی ہیں۔
استغاثہ کے مطابق تقریبا 15 ژاں دارموں اور پولیس اہلکاروں پر دھماکا خیز آلات پھینکے گئے۔ ژاں دارم فرانس کی فوجی پولیس ہے جو وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرتی ہے۔ زخمیوں میں سیکنڈ ڈگری جلنے کے کیسز بھی شامل ہیں۔ متاثرہ اہلکار نے فرانسیسی اخبار لی فیگارو کو بتایا کہ اس کی ٹانگ اور ہاتھ پر معمولی زخم آئے، جب کہ اس کے یونٹ کے 13 ارکان زخمی ہوئے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ پھینکا گیا مادہ عام پٹرول بم سے کہیں زیادہ شدت سے جل رہا تھا۔
فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق ہفتے کے روز ملک بھر میں 770 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا، جو گزشتہ ہفتے کی گرفتاریوں سے تقریبا نصف ہے۔ احتجاج اور ہالووین کی تقریبات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 159 ارکان زخمی ہوئے۔
احتجاج کیوں ہو رہے ہیں
یہ مظاہرے ستمبر کے آخر میں شروع ہونے والی نوجوانوں کی قیادت والی تحریک کا حصہ ہیں، جس میں مہنگائی، بڑھتے اخراجات زندگی اور عوامی خدمات، خاص طور پر اسکولوں کی خراب صورتحال پر حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ منتظمین، جنہیں یلو ویسٹس یا ژیلے ژون کہا جاتا ہے، کا کہنا ہے کہ حالیہ مظاہروں میں درجنوں مظاہرین بھی شدید زخمی ہوئے ہیں۔
فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے تشدد کو “غیر معمولی” قرار دیا اور کہا کہ پولیس کی قطار پر پٹرول بم پھینکنا قتل کی کوشش کے مترادف ہے۔ دوسری جانب صدارتی انتخابات میں سب سے آگے سمجھی جانے والی میرین لوپین نے کہا ہے کہ اس حملے کے ذمہ داروں کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ فرانس میں چھ ماہ بعد صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں، اس لیے سیاسی ماحول پہلے ہی کشیدہ ہے۔
یہ خبر فرانس میں جاری احتجاجی لہر کی تازہ ترین پیش رفت ہے، جس پر پہلے بھی فرانس میں ہفتے کے روز احتجاج (https://niazitvnews.com/?p=2886) اور فرانس میں احتجاج کی تازہ صورتحال (https://niazitvnews.com/?p=3010) کی خبریں شائع ہو چکی ہیں۔
ماخذ: اے ایف پی، میل آن لائن، ٹریبیون، بی بی سی — 2 نومبر 2026