ڈی جی آئی ایس پی آر: بھارت دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست

0

پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے اور افغان طالبان حکومت اس کی پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی حمایت بند نہ کی تو انہیں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ یہ بیان 30 اکتوبر کو خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں سامنے آیا جس کے حصے یکم اور 2 نومبر کو سرکاری میڈیا پر نشر ہوئے۔

پاکستان کا واحد مطالبہ کیا ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان طالبان سے واحد مطالبہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی حمایت ختم کریں۔ ان کے مطابق طالبان حکومت دہشت گرد رہنماؤں کو پناہ دے رہی ہے اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں سہولت کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان غیر ریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجوؤں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور افغانستان اب بھی ایسے ہی عناصر کے اثر میں ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس کی مداخلت کے بعد سے کئی ایجنسیوں اور پراکسی گروہوں نے افغانستان میں جڑیں مضبوط کی ہیں۔ ان کے بقول وہاں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں بھی موجود ہیں جن میں جیش العدل، القاعدہ اور داعش خراسان شامل ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ، امریکا اور کئی دیگر ممالک نے بھی افغانستان میں ان گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کی ہے۔

کن رہنماؤں کو پناہ دینے کا الزام

ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام لگایا کہ افغان طالبان نے نور ولی محسود، بشیر زیب اور گل بہادر سمیت دہشت گرد رہنماؤں کو پناہ دے رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حملوں کی ذمہ دار دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے آتی ہیں اور وہیں سے اسلحہ حاصل کرتی ہیں۔ انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کو بھی بھارت کی پراکسی قرار دیا۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ ایک عام ریاست کی طرح برتاؤ کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی برادری طالبان حکومت پر منشیات کی کاشت اور پیداوار روکنے کے لیے بھی دباؤ ڈالے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج افغانستان سے پیدا ہونے والے ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں، جن میں ڈرون حملے بھی شامل ہیں۔

ڈرون خطرے پر کیا کہا گیا

انٹرویو میں ڈرون خطرے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان آپریشنل تیاری میں بھارت اور افغان طالبان سے بہت آگے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنا رہی ہے تاکہ جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کے پاس ڈرون کی اپنی صنعت یا ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے، اس لیے ان کی ڈرون صلاحیت ان کے سرپرستوں کی فراہم کردہ ہے۔

انہوں نے بھارت کے ساتھ گزشتہ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی نے درجنوں جدید ڈرون بھیجے تھے جنہیں پاکستانی افواج نے مار گرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تیاری اس وقت سے مزید آگے بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان اس وقت صرف دو چیزیں پیدا کر رہا ہے: دہشت گردی اور منشیات۔

پس منظر اور عالمی ردعمل

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی جاری ہے اور پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ اس کی سرزمین پر حملے افغانستان سے ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے حال ہی میں افغانستان کو سخت انتباہ بھی دیا تھا کہ دہشت گردی اس کے لیے ریڈ لائن ہے۔ اسی تناظر میں امریکا کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا بھی خیرمقدم کیا گیا تھا، تاہم پاکستان نے اسے اس شرط سے مشروط کیا تھا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کرے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا افغانستان کو سخت انتباہ (https://niazitvnews.com/?p=3163) اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایران امریکا ثالثی پر محتاط امید (https://niazitvnews.com/?p=2831)۔

ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، دی نیوز اور ڈنیا نیوز کی 2 نومبر 2026 کی رپورٹس، رائٹرز انٹرویو کی بنیاد پر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *