ایف سی سی: سپریم کورٹ کے فیصلے ہم پر لازم نہیں

0

وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اس پر لازم نہیں ہیں، وہ صرف رہنما حیثیت رکھتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 8 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں سے رہنمائی لے سکتی ہے اور جہاں وہ قانون اور آئین سے مطابقت رکھتے ہوں، انہیں اپنا سکتی ہے، لیکن وہ اس کی پابند نہیں ہے۔ یہ فیصلہ 2 نومبر 2026 کو سامنے آیا۔

فیصلے میں کیا کہا گیا

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے وفاقی آئینی عدالت پر لازم نہیں، تاہم وہ قائل کرنے والی یعنی persuasive حیثیت رکھتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ جہاں سپریم کورٹ کا طے کردہ قانونی اصول قانون اور آئین سے ہم آہنگ ہو، وہاں اس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ اسی اصول کا اطلاق ہائی کورٹ کے آرٹیکل 199 کے تحت فیصلوں کے خلاف اپیل کی اجازت کے لیے سپریم کورٹ کے طے کردہ اصولوں پر بھی ہوگا۔

بینچ نے کہا کہ عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں سے حکمت حاصل کر سکتی ہے، لیکن ان کی پابند نہیں ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے بنائی گئی وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے درمیان اختیارات کی حدود پر بحث جاری ہے۔ چند روز قبل ہی ایف سی سی کے چیف جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے ایک بینچ کی جانب سے طے شدہ مقدمے پر نظرثانی پر عدالتی نظم و ضبط کے حوالے سے تنقید بھی کی تھی۔

نظرثانی کی سخت شرائط

فیصلے میں نظرثانی کے دائرہ کار کو انتہائی محدود قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ نظرثانی صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے جب ریکارڈ پر واضح غلطی موجود ہو یا کسی غلطی سے انصاف کا قتل ہو رہا ہو۔ نظرثانی کو مقدمے کی دوبارہ سماعت یا دلائل دہرانے کا موقع قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بینچ نے کہا کہ حالیہ رجحان یہ ہے کہ سائلین اور وکلاء نظرثانی کو مقدمہ دوبارہ لڑنے کا موقع سمجھتے ہیں، جو درست نہیں ہے۔

عدالت نے وکلاء کو خبردار کیا کہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ یا فریق کو نظرثانی کی درخواست کے ساتھ ایک سرٹیفکیٹ دینا ہوگا جس میں معقول وجوہات کے ساتھ بتایا جائے کہ درخواست قابل سماعت ہے اور نظرثانی قانون کے مطابق جائز ہے۔ غلط سرٹیفکیٹ کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

جرمانے اور ضمانتی رقم

فیصلے کے مطابق اگر عدالت کسی نظرثانی کی درخواست کو بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی قرار دے تو کم از کم 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے خلاف تادیبی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ جہاں فریق کی کوئی قانونی نمائندگی نہ ہو، وہاں بھی بے بنیاد درخواست پر کم از کم 25 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔

اسی طرح نظرثانی کی کوئی درخواست اس وقت تک قابل سماعت نہیں ہوگی جب تک درخواست گزار عدالت کے مقررہ اکاؤنٹ میں 50 ہزار روپے بطور ضمانت جمع نہ کرا دے۔ اگر درخواست مسترد ہو جائے یا بے بنیاد قرار پائے تو یہ ضمانتی رقم ضبط کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مناسب مقدمات میں نظرثانی کی درخواست کو زبانی سماعت کے بغیر بھی نمٹایا جا سکتا ہے، جب تک کہ سماعت ضروری نہ سمجھی جائے۔

آرٹیکل 175 ایف اور اپیل کی اجازت

فیصلے میں آرٹیکل 175 ایف (1) (سی) کے تحت اپیل کی اجازت کے تصور کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کے آرٹیکل 199 کے تحت فیصلے کے خلاف اپیل سننے کے لیے آئینی عدالت سے اجازت لینا ضروری ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم سے پہلے یہ اختیار سپریم کورٹ کے پاس آرٹیکل 185 (3) کے تحت تھا، اور ترمیم کے بعد یہ اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو گیا۔

بینچ نے کہا کہ اپیل کی اجازت کی درخواست بذات خود اپیل نہیں ہوتی، بلکہ صرف اجازت ملنے کے بعد ہی درخواست اپیل کا درجہ اختیار کرتی ہے اور پھر اس کی سماعت اپیل کی طرح ہوتی ہے۔ اجازت کی درخواست مسترد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے اس فیصلے کی توثیق کر دی ہے جس کے خلاف اجازت مانگی گئی تھی۔ اسی کیس میں عدالت نے بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی نظرثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس کی جمع کرائی گئی ضمانتی رقم ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔

مزید پڑھیں: سندھ کے تین انسداد دہشت گردی عدالتوں کے جج بحال (https://niazitvnews.com/?p=1338) اور بیرون ملک لاپتہ 50 پاکستانیوں کیس کی سماعت (https://niazitvnews.com/?p=3218)۔

ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، دی نیشن اور ڈنیا نیوز کی 2 نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *