لاہور سموگ: اے کیو آئی 509، دنیا کا آلودہ ترین شہر

0

لاہور میں سموگ کی شدت برقرار ہے اور پیر کی صبح 2 نومبر کو شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 509 تک پہنچ گیا، جس کے بعد لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر بن گیا۔ محکمہ موسمیات اور عالمی فضائی معیار کی نگرانی کے نظام کے مطابق لاہور کی فضا صحت کے لیے انتہائی خطرناک درجے میں داخل ہو چکی ہے اور شہریوں کو سانس کی بیماریوں سمیت سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

کن علاقوں میں آلودگی سب سے زیادہ

24 نیوز کی رپورٹ کے مطابق پیر کی صبح لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بلند رہی۔ علامہ اقبال ٹاؤن میں اے کیو آئی 902 ریکارڈ کیا گیا جو شہر میں سب سے زیادہ تھا۔ اس کے بعد پیراگون سٹی میں 698، چمن پارک میں 619، برکی روڈ پر 569، ماڈل ٹاؤن میں 471، ڈی ایچ اے فیز 5 میں 412، بیدیاں روڈ پر 358 اور عسکری 10 میں 298 ریکارڈ کیا گیا۔

دی نیشن کی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ لاہور کا مجموعی اے کیو آئی 500 سے تجاوز کر گیا ہے اور علامہ اقبال ٹاؤن میں آلودگی کی سطح سب سے زیادہ رہی۔ اس سے قبل اتوار کو بھی لاہور کا اے کیو آئی 448 ریکارڈ کیا گیا تھا اور شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست تھا۔ عالمی درجہ بندی میں لاہور کے بعد دہلی کا اے کیو آئی 201، قاہرہ کا 174 اور ڈھاکہ کا 164 ریکارڈ کیا گیا۔

صحت کے لیے کتنا خطرناک

اے کیو آئی کی درجہ بندی کے مطابق 300 سے زیادہ کا انڈیکس پوری آبادی کے لیے شدید خطرناک سمجھا جاتا ہے، جبکہ 201 سے 300 کے درمیان کی سطح بہت غیر صحت مند اور 151 سے 200 کے درمیان غیر صحت مند قرار دی جاتی ہے۔ لاہور کا 509 کا انڈیکس اس خطرناک حد سے بھی بہت آگے ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اس سطح کی آلودگی میں سانس کی بیماریاں، دمہ، آنکھوں اور گلے کی جلن، دل کی بیماریوں اور پھیپھڑوں کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور دمہ یا دل کے مریض سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، باہر نکلتے وقت ماسک استعمال کریں، گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں اور پانی زیادہ پئیں۔ اسکول جانے والے بچوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے مزدوروں کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔

پنجاب کے دیگر شہر اور موسم کی پیشگوئی

پنجاب حکومت کے فضائی معیار کی نگرانی کے نظام کے مطابق صوبے کے دیگر شہروں میں بھی آلودگی بلند سطح پر ہے۔ اس سے قبل گوجرانوالہ میں اے کیو آئی 500، شیخوپورہ میں 336 اور ننکانہ صاحب میں 326 ریکارڈ کیا گیا تھا۔ لاہور میں خشک موسم کے باعث آلودگی میں اضافہ ہوا ہے اور محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا ہے۔ لاہور میں درجہ حرارت 17 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

حکام کی جانب سے سموگ کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ اس سے قبل لاہور میں سموگ کریک ڈاؤن کے دوران 1763 دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر جرمانے عائد کیے گئے تھے، 739 گاڑیاں ضبط کی گئی تھیں، 41 صنعتی یونٹس اور 146 ریسٹورنٹس سیل کیے گئے تھے اور فصلوں کی باقیات جلانے پر بھی کارروائی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود خشک موسم اور فضائی آلودگی کے ذرائع برقرار رہنے سے شہر کی فضا میں بہتری نہیں آ سکی ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور میں سموگ کریک ڈاؤن: 1763 گاڑیاں جرمانہ (https://niazitvnews.com/?p=2907) اور لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر، اے کیو آئی 419 (https://niazitvnews.com/?p=2680)۔

ماخذ: 24 نیوز، دی نیشن اور بلوم پاکستان کی 2 نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *