قصور میں پولیس تشدد کی ویڈیو وائرل، دکاندار اسپتال
قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن میں موبائل مارکیٹ کے دکاندار پر مبینہ پولیس تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ ڈان کی 2 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق دکاندار یوسف کو تشویشناک حالت میں پہلے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال لے جایا گیا اور پھر لاہور منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کا موقف اس سے مختلف ہے، اور واقعے کی دونوں جانب کی تفصیلات ابھی زیر تفتیش ہیں۔
ویڈیو میں کیا نظر آیا
وائرل فوٹیج میں دکاندار یوسف کو موبائل مارکیٹ، ریلوے روڈ پر واقع اپنی دکان کے اندر ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے چنگل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈان کے مطابق ویڈیو میں تاجروں کا ایک گروپ پولیس اہلکاروں سے بحث کرتا اور اس تشدد پر احتجاج کرتا نظر آتا ہے جس سے دکاندار کے سر پر چوٹ آئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دکاندار کو مبینہ طور پر بندوق کے بٹ کے وار سے زخمی کیا گیا۔
پولیس دکان پر کیوں آئی تھی
ڈان کی رپورٹ کے مطابق پولیس دکاندار کو ایک مقدمے میں تفتیش کے لیے ساتھ لے جانا چاہتی تھی۔ دکاندار نے پولیس کے ساتھ جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود تھانے آ کر تفتیش میں شامل ہو جائے گا، کیونکہ اسے گرفتاری کا خدشہ تھا۔ پولیس نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور مبینہ طور پر اس پر تشدد کیا۔ دکاندار کی چیخ و پکار سن کر دیگر تاجر بھی اس کی دکان پر جمع ہو گئے، احتجاج کیا اور اسے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا۔
پولیس کا موقف مختلف ہے
پولیس کے مطابق یوسف ملزم ہے اور اس کا تعلق مبینہ طور پر بدھو میو گینگ سے ہے جو جیب تراشی اور موبائل چھیننے کی وارداتوں میں ملوث ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ یوسف اپنی موبائل شاپ پر چھینے گئے موبائل فون خرید کر ان کے آئی ایم ای آئی نمبر تبدیل کر کے فروخت کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق پتوکی کے مشتبہ جیب تراش اور موبائل چور علی حیدر کے انکشاف پر شیخوپورہ پولیس نے یوسف کی دکان پر چھاپہ مارا تھا۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم نے مزاحمت کی، شیشے کے شو کیس توڑ کر خود کو زخمی کیا اور خودکشی کی کوشش کی، جبکہ اس کی چیخ و پکار پر لوگ جمع ہوئے اور اسے پولیس کی حراست سے چھڑا لیا۔ یہ تمام نکات پولیس کے الزامات اور موقف کے طور پر سامنے آئے ہیں، انہیں عدالت کا فیصلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
40 دکانداروں پر مقدمہ درج
واقعے کے بعد اتوار کو کوٹ رادھا کشن پولیس نے 40 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جن میں سے 15 نامزد ہیں۔ ان پر پولیس پر حملہ کرنے، وردی پھاڑنے، نقدی چھیننے اور ملزم کو حراست سے چھڑانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ڈان کے مطابق وائرل ویڈیو میں اس طرح کا کوئی واقعہ نظر نہیں آتا۔ یہ مقدمہ شیخوپورہ تھانے کے ایس ایچ او راہیل احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
ریسکیو 1122 نے زخمی دکاندار کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال، کوٹ رادھا کشن منتقل کیا، جہاں سے ڈاکٹروں نے اسے تشویشناک حالت میں لاہور ریفر کر دیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہے اور تاجر برادری میں اس پر شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: سیالکوٹ بھگدڑ کی تازہ صورتحال کے لیے یہ خبر دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=3182
قصور سے متعلق ایک اور خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3051
ماخذ: ڈان، 2 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق۔ پولیس کا موقف بھی اسی رپورٹ میں شامل ہے۔