عمران کی بہنوں کی نظر بندی: لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

0

لاہور ہائیکورٹ نے پیر 2 نومبر 2026 کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی کے معاملے میں بڑا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے لاہور کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کو 4 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور نورین نیازی کی دو بیٹیوں کو منگل کی صبح 10 بجے جیل میں اپنی والدہ سے ایک گھنٹے کی ملاقات کی اجازت دینے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس ابہر گل خان نے یہ احکامات علیمہ خان کے بیٹے شاہریز خان اور سکینہ بی بی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیے۔

عدالت نے کیا حکم دیا

سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے محکمہ داخلہ اور جیل حکام سے نظر بندی میں توسیع اور نورین نیازی کی صحت کے بارے میں رپورٹس بھی طلب کر لیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کے وکیل ڈی سی لاہور کو ملاقات کے لیے درخواست دیں گے اور ڈی سی اس درخواست کی بنیاد پر ملاقات کا انتظام کریں گے۔ نکتہ کی رپورٹ کے مطابق ملاقاتوں پر عمل درآمد کی رپورٹ 4 نومبر کو عدالت میں پیش کی جائے گی۔ عدالت نے ڈی سی لاہور کو 4 نومبر کو خود پیش ہو کر نظر بندی میں توسیع کی وجوہات واضح کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جج نے یہ بھی کہا کہ دونوں مقدمات کی رپورٹس ایک ساتھ طلب کی گئی ہیں اور ان کا جائزہ لینے کے بعد ہی آگے کی کارروائی ہوگی۔

تینوں بہنیں کب سے زیر حراست ہیں

علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی ستمبر سے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کے تحت حراست میں ہیں۔ علیمہ خان کو 20 ستمبر کو جبکہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 21 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ گرفتاریاں پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ سے پہلے عمل میں آئی تھیں، جس کا مطالبہ عمران خان کی رہائی تھا۔ ابتدائی 30 روزہ نظر بندی مکمل ہونے کے بعد پنجاب حکومت نے اکتوبر کے آخر میں عدالت کو بتایا تھا کہ تینوں بہنوں کی نظر بندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق یہ توسیع ڈپٹی کمشنر کی سفارش پر کی گئی۔ درخواست گزاروں کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت کو بتایا کہ تینوں بہنیں 44 دن سے جیل میں ہیں، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ یہ وکیل کا موقف ہے، عدالت نے اس پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

نورین نیازی کی صحت کا معاملہ

نورین نیازی کو 28 اکتوبر کو کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا تھا، جہاں انہیں دل کی تکلیف کی شکایت ہوئی تھی۔ درخواست گزاروں کے وکیل کے مطابق نورین نیازی کو حراست کے دوران دل میں تکلیف محسوس ہوئی، جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ دوسری جانب پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نورین نیازی کا اسپتال میں علاج ہوا اور ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق نورین کی بیٹی حاجرہ نیازی 29 اکتوبر کو اسپتال میں علاج کے دوران اپنی والدہ سے مل چکی ہیں۔ یہ سرکاری موقف ہے، جبکہ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اہل خانہ کو ملاقاتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ عدالت نے جیل حکام سے نورین نیازی کی صحت پر رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

ڈرائیور کی حراست اور سلمان اکرم راجہ کا موقف

سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان کے ڈرائیور کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے بقول ڈرائیور ایک غیر سیاسی شخص ہے اور اس کے ساتھ نرمی برتی جائے۔ جسٹس ابہر گل خان نے سوال کیا کہ اگر ڈرائیور کی حراست ایک الگ معاملہ ہے تو اس کے لیے الگ درخواست کیوں دائر نہیں کی گئی۔ جج نے کہا کہ درخواستیں ایک ساتھ دائر کی گئی ہیں، اس لیے رپورٹس بھی ایک ساتھ طلب کی جائیں گی۔

درخواست گزاروں کا مطالبہ کیا ہے

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی 30 روزہ نظر بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے 7 اکتوبر کو نوٹیفکیشن جاری کر کے نظر بندی میں توسیع کی، جو ان کے بقول غیر قانونی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ 7 اکتوبر کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔ سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو میں یہ بھی الزام لگایا کہ علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور کو پہلے گرفتار کیا گیا اور بعد میں نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ یہ پی ٹی آئی رہنما کا الزام ہے، جس پر عدالت نے رپورٹس طلب کر کے جائزہ لینے کا کہا ہے۔ یہ معاملہ اس سے پہلے بھی عدالت میں زیر بحث رہا ہے۔ عمران کی بہنوں کی نظر بندی میں 30 دن کی توسیع کا معاملہ اکتوبر میں سامنے آیا تھا (https://niazitvnews.com/?p=2147)، جبکہ نورین نیازی کی اسپتال منتقلی کی خبر نے بھی توجہ حاصل کی تھی (https://niazitvnews.com/?p=2517)۔ اب 4 نومبر کی سماعت میں ڈی سی لاہور کی پیشی اور ملاقاتوں کی رپورٹ اس کیس کا اگلا اہم مرحلہ ہوگی۔

ذرائع: جیو نیوز، ایکسپریس ٹریبیون، نکتہ — 2 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *