نورین نیازی اسپتال منتقل، طبیعت بگڑنے پر کارڈیالوجی

0

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کی جیل میں طبیعت بگڑنے پر انہیں لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے وکیل رانا مدثر عمر کے مطابق 70 سالہ نورین نیازی کو حراست کے دوران صحت خراب ہونے پر اسپتال لے جایا گیا، اور خاندان کے کسی فرد کو اس منتقلی کی اطلاع نہیں دی گئی۔

وکیل کا دعویٰ: خاندان کو اطلاع نہیں دی گئی

وکیل رانا مدثر عمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 28 اکتوبر کو لکھا کہ نورین نیازی صاحبہ کی جیل میں طبیعت خراب ہونے پر انہیں پنجاب کارڈیالوجی منتقل کیا گیا ہے، اور ان کی صحت کے لیے دعاؤں کی درخواست کی۔ ان کے مطابق نورین نیازی غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں اور اسپتال منتقلی پر خاندان کے کسی شخص کو اطلاع نہیں دی گئی۔ یہ وکیل کا دعویٰ ہے، اسپتال یا جیل حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی آزاد بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

پی ٹی آئی نے نورین نیازی کی صحت بگڑنے اور انہیں اسپتال منتقل کیے جانے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور پارٹی نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔

تین بہنوں کی نظر بندی کا پس منظر

عمران خان کی تین بہنیں — علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان — ستمبر میں اس وقت حراست میں لی گئی تھیں جب پی ٹی آئی اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔ علیمہ خان کو 20 ستمبر کو جبکہ عظمیٰ اور نورین کو 21 ستمبر کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

ان کی نظر بندی کے ابتدائی احکامات 30 روز کے لیے جاری ہوئے تھے، اور کوٹ لکھپت جیل میں ان کی نظر بندی میں 7 اکتوبر کو مزید 30 روز کی توسیع کر دی گئی تھی۔ اس سے قبل 28 اکتوبر کو ہی خبر آئی تھی کہ پنجاب حکومت نے تینوں بہنوں کی احتیاطی حراست میں مزید 30 روز کی توسیع لاہور ہائی کورٹ کو آگاہ کر کے کی ہے، جس کے بعد ان کی رہائی کی درخواست نمٹا دی گئی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس مسلسل حراست کو سیاسی قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے، جبکہ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ توسیع قانونی طریقہ کار کے تحت کی گئی ہے۔

ملاقاتوں پر پابندی کا معاملہ

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 28 اکتوبر کو پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے مطابق ملاقاتوں پر پابندی 375 روز سے جاری ہے اور منگل کا دن ملاقات کے لیے مقرر تھا، اس لیے ملاقات ہونی چاہیے تھی۔ گوہر نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں خاندان سے ملنے نہ دینا غیر انسانی سلوک ہے، اور اگر ملاقاتیں باقاعدگی سے ہوتیں تو سیاسی صورتحال بہتر ہو سکتی تھی۔

پی ٹی آئی کے مؤقف اور حکومت کے مؤقف میں اس معاملے پر واضح فرق ہے، اور دونوں طرف کے بیانات متعلقہ ذرائع سے منسوب کر کے پیش کیے جا رہے ہیں۔

28ویں ترمیم پر گوہر کے ڈیل سے انکار اور ایمرجنسی ختم کرنے کے مطالبے کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2461 — فضل الرحمان کے کے پی میں گورنر راج پر بیان کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2497

ماخذ: دی ایکسپریس ٹریبیون، اردو پوائنٹ — 28 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *