نوشکی حملہ: 2 طالبات شہید، بگٹی کا انصاف کا وعدہ
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نوشکی کے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج پر حملے میں زخمی ہونے والی 3 طالبات میں سے 2 شہید ہو گئیں۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں انہوں نے حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ذمہ داروں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا، حکومت تعلیمی اداروں کو دہشت گردی کے خوف سے بند نہیں کرے گی۔
حملہ کیسے ہوا؟
کالج انتظامیہ کے حوالے سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق 28 اکتوبر کو مسلح افراد گرلز ڈگری کالج نوشکی میں داخل ہوئے، انہوں نے نگرانی کے کیمرے توڑے اور پرنسپل کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی، پھر طالبات پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ میں 3 طالبات زخمی ہوئیں جن کی شناخت مہمونہ اور مریم، دونوں کا تعلق قاضی آباد سے، اور رخسانہ، جن کا تعلق کلی مینگل سے بتایا گیا ہے، کے ناموں سے ہوئی۔ زخمی طالبات کو میر گل خان نصیر ٹیچنگ اسپتال نوشکی منتقل کیا گیا، جہاں سے ایک طالبہ کو حالت تشویشناک ہونے پر کوئٹہ ریفر کیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس میں پیش کی گئی تفصیل کے مطابق حملہ آور 4 نقاب پوش افراد تھے جو 2 موٹر سائیکلوں پر آئے، انہوں نے کالج کے 2 سی سی ٹی وی کیمرے توڑے اور پرنسپل کے دفتر میں توڑ پھوڑ کے بعد طالبات کو دھمکایا اور فائرنگ کی۔ ابتدائی اطلاعات میں حملہ آوروں کی تعداد 3 بتائی گئی تھی، اس لیے اس معاملے میں اعداد میں فرق رپورٹوں میں موجود ہے۔
وزیراعلیٰ کا مؤقف: ذمہ دار کون؟
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے حملے کا ذمہ دار کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو قرار دیا ہے۔ یہ ان کا الزام ہے، حملے کی ذمہ داری کا آزادانہ طور پر کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا ہے۔ بگٹی نے کہا کہ حملہ آور بچیوں کو تعلیم سے محروم کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے، اور سوال کیا کہ معصوم بچیوں پر حملہ کر کے دہشت گرد کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول بلوچ روایات اور اقدار میں نہتی طالبات کو نشانہ بنانا کسی صورت جائز نہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پہلے ہی 3,200 پہلے سے بند اسکول دوبارہ کھولے ہیں اور آئندہ بھی کوئی اسکول یا کالج دہشت گردی کے خوف سے بند نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، ایف سی اور بلوچستان پولیس کے ساتھ مل کر حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی۔
شہید طالبات کی یاد میں اسپورٹس گالا
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ شہید طالبات کی یاد میں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) میں اسپورٹس گالا منعقد کیا جائے گا، جبکہ نوشکی کے اسی کالج میں بھی طالبات کے نام سے ایک اسپورٹس فیسٹیول ہوگا۔ ان کے مطابق ان تقریبات کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ تشدد تعلیم کے عمل کو روک نہیں سکتا اور بلوچستان کی سڑکیں زندگی اور مثبت سرگرمیوں سے آباد رہیں گی۔
طلبہ تنظیموں کی مذمت
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بی ایس اے سی) نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے، پہلے اساتذہ اور پروفیسرز کو نشانہ بنایا گیا اور اب طالبات پر حملے ہو رہے ہیں، جس سے تعلیمی ماحول میں خوف پھیل رہا ہے۔ تنظیم نے فوری کارروائی، متاثرین کو انصاف اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی سمیت دیگر حقوق کی تنظیموں نے بھی واقعے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
اس سے قبل نوشکی میں فائرنگ اور خضدار میں ڈی آئی جی کے قافلے پر حملے کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2473 — اس خبر میں نوشکی کالج فائرنگ میں 3 طالبات کے زخمی ہونے کی ابتدائی اطلاع دی گئی تھی، آج کی خبر اسی واقعے کی تازہ پیش رفت ہے جس میں وزیراعلیٰ نے 2 طالبات کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ بلوچستان میں سیکیورٹی کارروائیوں کی حالیہ تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2437
ماخذ: اے آر وائی نیوز، اب تک نیوز، اردو پوائنٹ، ڈان اور دی ٹریبیون — 28 اکتوبر 2026