اسلام آباد عدالت نے طالب علم کی ویڈیو بنانے والے کو 7 سال قید سنا دی

0

اسلام آباد کی ایک عدالت نے 16 سالہ طالب علم کو ہراساں کرنے اور اس کی مرضی کے بغیر قابل اعتراض ویڈیو بنانے کے کیس میں مرکزی ملزم کو 7 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے یہ فیصلہ سنایا، جس کی تاریخ 29 اکتوبر درج ہے اور خبر پیر 2 نومبر 2026 کو سامنے آئی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرم کو مزید 6 ماہ قید کاٹنا ہوگی۔

عدالت نے کیا فیصلہ سنایا

عدالت نے مرکزی ملزم راجہ حارث نوید کو پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعہ 22 کے تحت مجرم قرار دیا، جسے تعزیرات پاکستان کی دفعات 34 اور 109 کے ساتھ پڑھا گیا۔ عدالت نے ملزم کو 7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی اور پیکا (2025 میں ترمیم شدہ) کے تحت 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ فیصلے کے مطابق، جرمانہ ادا نہ کرنے پر مجرم کو مزید 6 ماہ قید بامشقت کاٹنا ہوگی۔ سزا سنائے جانے کے بعد مجرم کو حراست میں لے کر جیل بھیج دیا گیا۔

شریک ملزم بری

اسی کیس میں شریک ملزم شہزیب میراج کو عدالت نے شک کا فائدہ دے کر باعزت بری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شہزیب کے خلاف جرم میں معاونت کا الزام ثابت نہیں ہو سکا، اس لیے انہیں بری کیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی مثال ہے کہ عدالت نے ہر ملزم کے خلاف شواہد کو الگ الگ پرکھا۔

کیس کی تفصیلات

پراسیکیوشن کے مطابق، ملزم نے دھوکے سے 16 سالہ میٹرک کے طالب علم کو ایک ڈرائنگ روم میں بند کیا، اسے ہراساں کیا اور اس کی مرضی کے بغیر اس کی قابل اعتراض ویڈیو ریکارڈ کی۔ بعد ازاں اس ویڈیو کے ذریعے طالب علم کو بلیک میل کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ متاثرہ طالب علم کے خاندان نے حکام سے رجوع کیا، جس کے بعد کیس درج ہوا اور قانونی کارروائی شروع ہوئی۔ عدالت نے شواہد کو کافی قرار دیتے ہوئے جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی۔

یہ فیصلہ بچوں کے خلاف سائبر کرائم کے مقدمات میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیکا کے تحت سخت سزائیں آن لائن ہراسانی اور بچوں کے استحصال کے خلاف روک تھام کا کام کرتی ہیں۔ متاثرہ بچوں کے خاندانوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ایسے واقعات کی فوری اطلاع نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو دیں۔

قصور میں پولیس تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے معاملے میں بھی پولیس کے رویے پر سوالات اٹھے تھے، جہاں ایک دکاندار کو مبینہ تشدد کے بعد اسپتال منتقل کرنا پڑا تھا۔ دونوں واقعات میں قانون کی عملداری اور شہریوں کے تحفظ کا سوال مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3257

ذرائع: ٹریبیون، اردو پوائنٹ، دنیا نیوز، ایم ایم نیوز، پاکستان ٹوڈے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *