مہنگائی اکتوبر میں 9.6 فیصد، ستمبر سے کم ہوئی

0

پاکستان میں مہنگائی کی سالانہ شرح اکتوبر 2026 میں 9.6 فیصد رہی، جو ستمبر کے 10.3 فیصد سے کم ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) نے پیر 2 نومبر کو جاری کردہ اعداد میں بتایا کہ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی بنیاد پر مہنگائی میں کمی آئی ہے، تاہم گزشتہ سال اکتوبر کے 6.2 فیصد کے مقابلے میں شرح اب بھی بلند ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سال بھر کے مقابلے میں قیمتیں کم رفتار سے بڑھ رہی ہیں، مگر عام آدمی کے لیے بوجھ بدستور موجود ہے۔

ماہانہ بنیاد پر قیمتیں پھر بڑھیں

سالانہ شرح کم ہونے کے باوجود ماہانہ بنیاد پر قیمتیں اکتوبر میں 1.1 فیصد بڑھیں۔ ستمبر میں ماہانہ اضافہ 1.3 فیصد اور گزشتہ سال اکتوبر میں 1.7 فیصد تھا۔ یعنی ماہ بہ ماہ اضافے کی رفتار بھی کچھ سست ہوئی ہے، لیکن قیمتیں نیچے نہیں آئیں، بلکہ آہستہ آہستہ اوپر ہی جا رہی ہیں۔ شہری علاقوں میں ماہانہ اضافہ 0.81 فیصد اور دیہی علاقوں میں 1.49 فیصد ریکارڈ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہی صارفین پر دباؤ نسبتاً زیادہ رہا۔

شہری اور دیہی مہنگائی میں فرق

شہری علاقوں میں سالانہ مہنگائی اکتوبر میں 9.5 فیصد رہی، جو ستمبر میں 10.1 فیصد تھی، جبکہ گزشتہ سال اکتوبر میں یہ 6.0 فیصد تھی۔ دیہی علاقوں میں سالانہ مہنگائی 9.8 فیصد رہی، جو ستمبر کے 10.5 فیصد سے کم ہے، مگر گزشتہ سال کے 6.6 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ مالی سال 2027 کے پہلے چار ماہ، جولائی تا اکتوبر، میں اوسط مہنگائی 10.05 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ صرف 4.79 فیصد تھی۔ اس تقابل سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مالی سال کے آغاز میں قیمتوں کا دباؤ پچھلے سال کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ رہا ہے۔

خوراک اور دیگر اشیا کی صورتحال

اکتوبر میں خوراک کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 2.26 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹس کے مطابق مرغی، گندم اور گندم کے آٹے سمیت کئی ضروری اشیا کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھیں، جس سے گھریلو بجٹ پر براہ راست اثر پڑا۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مہنگائی ماہانہ بنیاد پر 1.79 فیصد بڑھی، جبکہ رہائش، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی مد میں سالانہ اضافہ بھی دباؤ کا باعث بنا۔ بنیادی مہنگائی، جس میں خوراک اور توانائی شامل نہیں ہوتی، اکتوبر میں 8.6 فیصد سے کم ہو کر 7.8 فیصد رہی، جو ایک مثبت اشارہ ہے۔ دوسری طرف ہول سیل پرائس انڈیکس کی سالانہ شرح 13.3 فیصد سے بڑھ کر 13.8 فیصد ہو گئی، جو آئندہ مہینوں میں خوردہ قیمتوں پر دباؤ کی نشاندہی کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پٹرول 3.40، ڈیزل 7.76 روپے سستا، نئی قیمتیں آج سے https://niazitvnews.com/?p=3348 اور حکومت کی 27 ارب روپے کی ایندھن ریلیف اسکیم https://niazitvnews.com/?p=3338

وزارت خزانہ کا اندازہ درست نکلا

وزارت خزانہ نے اپنی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک میں اکتوبر کے لیے مہنگائی 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کا اندازہ لگایا تھا، اور اصل اعداد اسی حد کے اندر آئے ہیں۔ وزارت نے خبردار کیا تھا کہ مہنگائی کا آئندہ راستہ عالمی توانائی کی قیمتوں، خوراک کی فراہمی اور بیس ایفیکٹ سے حساس رہے گا۔ بروکریج ہاؤسز نے بھی اکتوبر کی مہنگائی تقریباً 9 سے 9.5 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی تھی، جبکہ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے 9.0 سے 9.5 فیصد اور انسائٹ سیکیورٹیز نے 9.3 فیصد کا اندازہ لگایا تھا۔ بلومبرگ کے سروے میں بھی 9.5 فیصد کا اندازہ سامنے آیا تھا، جس کے مقابلے میں اصل شرح 9.61 فیصد کچھ زیادہ رہی۔

آگے کیا ہوگا

ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی سالانہ شرح کا سنگل ڈیجٹ میں آنا ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اگست میں یہ 11.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم ماہانہ اضافہ، خوراک کی قیمتوں میں تیزی اور ہول سیل مہنگائی میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریلیف ابھی مکمل نہیں ہوا۔ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی اور حکومت کے توانائی و خوراک سے متعلق فیصلے آئندہ مہینوں میں مہنگائی کی سمت طے کریں گے۔ عام صارفین کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا آنے والے مہینوں میں روزمرہ کی اشیا کی قیمتیں مستحکم ہوتی ہیں یا نہیں۔

ماخذ: آج انگلش، پروفٹ پاکستان ٹوڈے، بزنس ریکارڈر، دنیا نیوز، 2 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *