مسٹر پٹلو اسلام آباد سے گرفتار، سیالکوٹ منتقل
رپورٹس کے مطابق مشہور ٹک ٹاکر محمد انصار، جو مسٹر پٹلو کے نام سے جانے جاتے ہیں، کو اسلام آباد کے علاقے گلبرگ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری کے بعد انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے سیالکوٹ منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ میں دو افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے تھے۔ بعض ذرائع نے گرفتاری کی خبر دیتے ہوئے یہ بھی نوٹ کیا کہ پولیس کی جانب سے باضابطہ تصدیق کا انتظار ہے، اس لیے اس خبر کو رپورٹس کی بنیاد پر ہی پڑھا جانا چاہیے۔
گرفتاری کیسے ہوئی
کشمیر انگلش اور ڈیلی پاکستان سمیت کئی ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے گلبرگ گرینز میں چھاپہ مار کر مسٹر پٹلو کو حراست میں لیا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کے وقت انہیں ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور پھر سیالکوٹ روانہ کر دیا گیا۔ منٹ مرر کی رپورٹ میں بھی یہی کہا گیا کہ گرفتاری اسلام آباد کے گلبرگ علاقے میں ایک چھاپے کے دوران ہوئی، تاہم اس میں یہ احتیاط بھی درج تھی کہ گرفتاری کی سرکاری تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی تھی۔ دوسری طرف اے آر وائی نیوز نے ان کے ویڈیو بیان کی خبر دیتے ہوئے گرفتاری کے بعد کے بیان کا ذکر کیا، جس سے گرفتاری کی اطلاعات کو مزید تقویت ملتی ہے۔
بھگدڑ کا پس منظر
یہ معاملہ ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں منعقدہ مہندی کی تقریب سے جڑا ہے، جہاں سوشل میڈیا پر ایک گاڑی، 50 موٹر سائیکلوں اور دیگر انعامات کی قرعہ اندازی کا اعلان کیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ انعامات کی امید میں گراؤنڈ پہنچے، اور گیٹ کھلنے کے بعد دھکم پیل مچ گئی۔ اس بھگدڑ میں دو افراد، عقیل اور ریحان، ہلاک ہوئے، جبکہ ریحان لاہور منتقل کیے جانے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ پولیس کے مطابق زخمیوں کی تعداد 18 تھی، جن میں سے کئی کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
مقدمہ اور پہلے کی گرفتاریاں
پولیس نے موترہ تھانے میں مقدمہ درج کیا تھا، جس میں مسٹر پٹلو سمیت 9 افراد کو نامزد کیا گیا اور تقریباً 40 سے 45 نامعلوم سیکیورٹی گارڈز بھی شامل کیے گئے۔ نامزد افراد میں ان کے بھائی کاشف بشیر، وینیو کے مالک شاہد جاوید اور دیگر منتظمین شامل ہیں۔ پولیس اس سے پہلے اس کیس میں 6 ملزمان کو گرفتار کر چکی تھی، جبکہ مسٹر پٹلو تاحال مفرور بتائے جا رہے تھے اور ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے تھے۔ پولیس نے قرعہ اندازی کے لیے رکھی گئی گاڑی اور 50 موٹر سائیکلیں بھی قبضے میں لے لی تھیں۔
مزید پڑھیں: سیالکوٹ بھگدڑ، مسٹر پٹلو کی مریم نواز سے اپیل https://niazitvnews.com/?p=3285 اور سیالکوٹ بھگدڑ، دوسری موت، ہلاکتیں 2 ہو گئیں https://niazitvnews.com/?p=3182
مسٹر پٹلو کا موقف
مسٹر پٹلو نے اپنے ویڈیو بیان میں اس واقعے کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تقریب کے لیے باقاعدہ این او سی اور اجازت حاصل کی تھی، اور ان کے بقول وہ اس وقت جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے جب بھگدڑ مچی۔ انہوں نے روتے ہوئے انصاف کی اپیل کی اور کہا کہ جو لوگ ان کے خلاف مقدمہ درج کرانا چاہتے ہیں، وہ کرا سکتے ہیں، وہ خود پیش ہو جائیں گے۔ ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی تھی، اور کئی صارفین نے ان کے موقف پر سوال بھی اٹھائے تھے۔
آگے کیا ہوگا
رپورٹس کے مطابق گرفتاری کے بعد اب مسٹر پٹلو کو سیالکوٹ میں تفتیش اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ پولیس ذرائع کے مطابق کیس میں نامزد دیگر ملزمان اور سیکیورٹی عملے کے کردار کی بھی جانچ جاری ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ ابھی تک اس کیس میں عدالت کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے، اس لیے مسٹر پٹلو کو ملزم کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے، مجرم کے طور پر نہیں۔ پولیس کی باضابطہ تصدیق اور آئندہ سماعتوں سے اس کیس کی سمت مزید واضح ہوگی۔
ماخذ: کشمیر انگلش، ڈیلی پاکستان، منٹ مرر، اے آر وائی نیوز، ڈان، 2 نومبر 2026۔