امریکی مڈٹرم الیکشن: ووٹنگ جاری، 57 ملین قبل از وقت ووٹ

0

امریکا میں مڈٹرم الیکشن کے لیے منگل 3 نومبر کو ووٹنگ جاری ہے جس میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔ انتخاب سے پہلے ہی 57 ملین سے زائد امریکی قبل از وقت ووٹ ڈال چکے ہیں جو 2022 کے مڈٹرم الیکشن کے مجموعی 45 ملین قبل از وقت ووٹوں سے کہیں زیادہ ہے اور ووٹرز کے غیر معمولی جوش کی علامت ہے۔ ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں اور 36 ریاستوں کے گورنروں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

کانگریس کا کنٹرول کیوں داؤ پر ہے

اس وقت ایوان نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کو معمولی اکثریت حاصل ہے جبکہ سینیٹ میں ریپبلکن 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کے ساتھ آگے ہیں۔ ڈیموکریٹس کو ایوان میں اکثریت کے لیے صرف تین نشستوں کا خالص اضافہ اور سینیٹ میں چار نشستوں کا خالص فائدہ درکار ہے، بشرطیکہ وہ اپنی موجودہ نشستیں بچا لیں۔ اگر ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان حاصل کر لیتے ہیں تو وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کو روک سکیں گے اور ان کی انتظامیہ کی وسیع تحقیقات شروع کر سکیں گے۔ سینیٹ میں شکست ٹرمپ کی سپریم کورٹ کے ججوں اور سینئر عہدیداروں کی تقرری کی صلاحیت کو بھی متاثر کرے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخاب ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت پر ملک گیر فیصلے کی حیثیت رکھتا ہے۔

ووٹرز کا موڈ اور معیشت سب سے بڑا مسئلہ

انتخابی مہم میں سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور زندگی گزارنے کی بڑھتی لاگت رہا ہے۔ ٹرمپ گزشتہ سال یہ وعدہ کر کے اقتدار میں واپس آئے تھے کہ قیمتیں کم کریں گے، مگر مہنگائی، محصولات اور مشرق وسطیٰ کے تنازع سے بڑھتی ایندھن کی قیمتوں نے امریکی شہریوں کو دباؤ میں رکھا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح 30 فیصد کے قریب گھوم رہی ہے۔ رائٹرز اور ایپسوس کے پیر کو مکمل ہونے والے سروے میں 46 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے کہا کہ وہ کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دیں گے جبکہ 38 فیصد نے ریپبلکن کو چنا۔ ڈیسیژن ڈیسک ہیڈکوارٹرز کی حتمی پیش گوئی میں ڈیموکریٹس کو ایوان میں 241 کے مقابلے میں 194 نشستیں اور سینیٹ میں 52 کے مقابلے میں 48 کی معمولی اکثریت ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ تاہم پولنگ میں غلطی کا امکان موجود ہے اور ریپبلکن امید کرتے ہیں کہ انتخاب کے دن ان کے ووٹرز بڑی تعداد میں نکلیں گے۔

ٹرمپ کا آخری پیغام اور ویٹو کی دھمکی

ٹرمپ نے پیر کو انتخاب سے پہلے اپنی آخری بڑی تقریر میں زیادہ تر وقت واشنگٹن کے لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول کی تزئین و آرائش پر بات کی۔ تقریر کے 26 منٹ بعد انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کے سب سے اہم مڈٹرم انتخابات ہیں، پھر وہ دوبارہ تزئین و آرائش کی بات پر لوٹ گئے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے رہنما چک شومر نے اسے افسوسناک اختتامی پیغام قرار دیا۔ ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو وہ ہر چیز کو ویٹو کر دیں گے۔ ان کے الفاظ میں وہ ویٹو کرتے رہیں گے، پھر شاید کچھ معاہدے بھی ہو جائیں، مگر صورتحال اتنی اچھی نہیں ہوگی۔ ٹرمپ انتخاب کی رات وائٹ ہاؤس میں نتائج دیکھیں گے اور انتخاب کے دن ان کی کوئی عوامی مصروفیت طے نہیں تھی۔

مشی گن، جارجیا اور دیگر اہم مقابلے

مشی گن میں ڈیموکریٹک کانگریس وومن ہیلی اسٹیونس کی جانب سے ریپبلکن امیدوار مائیک روجرز کی حمایت نے زبردست تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اسٹیونس اگست میں ڈیموکریٹک سینیٹ نامزدگی عبداللہ السید سے ہار گئی تھیں اور اب انہوں نے روجرز کی حمایت کی ہے، جس پر سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے اسے قابل مذمت غداری قرار دیا۔ السید سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جارجیا میں سابق صدر باراک اوباما نے ووٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ گورنر کے لیے کیشا لانس باٹمز کی حمایت کریں اور سینیٹ کے لیے جان اوسوف کو دوبارہ منتخب کریں۔ فلوریڈا میں سینیٹر برنی سینڈرز نے ڈیموکریٹک امیدوار اینجی نکسن کی حمایت کی ہے جو ریاست کی پہلی سیاہ فام خاتون سینیٹر بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ کنساس، ٹیکساس، آئیووا، اوہائیو اور الاسکا جیسی قدامت پسند ریاستوں میں بھی مقابلے سخت ہو گئے ہیں۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور نتائج پر خدشات

انتخاب سے ایک دن پہلے سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی وہ ہنگامی درخواست مسترد کر دی جس میں کیلیفورنیا سے کہا گیا تھا کہ وہ 20 ہزار سے زائد ایسے ووٹرز کے پوسٹل بیلٹ الگ رکھے جن کے بارے میں وفاقی حکام کا دعویٰ تھا کہ وہ ممکنہ طور پر امریکی شہری نہیں ہیں۔ عدالت کا ایک جملے پر مشتمل غیر دستخط شدہ حکم تھا اور کسی جج نے اختلاف ظاہر نہیں کیا۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے اس فیصلے کو تمام امریکیوں کے لیے حوصلہ افزا علامت قرار دیا۔ محکمہ انصاف نے الاسکا کی سینیٹ کی دوڑ میں بھی سرٹیفیکیشن روکنے کی کوشش کی تھی، مگر عدالت نے انتخاب سے پہلے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ ٹرمپ نے ماضی میں بغیر ثبوت کے ووٹر فراڈ کے الزامات لگائے ہیں اور 2020 کے انتخابی نتائج کو الٹنے کی کوشش کی تھی، اس لیے جیسے ہی پولنگ بند ہوگی، نتائج کی قبولیت پر خدشات بڑھ جائیں گے۔ اس انتخابی مہم پر 11 ارب ڈالر سے زائد کی سیاسی تشہیر خرچ ہوئی ہے جبکہ ٹرمپ کے اتحادی ارب پتی ایلون مسک نے ریپبلکن کوششوں میں کروڑوں ڈالر لگائے ہیں۔ پولنگ کے اوقات ریاست بہ ریاست مختلف ہیں اور پہلے نتائج مشرقی وقت کے مطابق شام 6 بجے انڈیانا اور کینٹکی میں پولنگ بند ہونے کے بعد آنا شروع ہوں گے۔ امریکی مڈٹرم الیکشن سے متعلق ہماری پہلی خبر امریکی مڈٹرم الیکشن آج، کانگریس کا کنٹرول داؤ پر (https://niazitvnews.com/?p=3352) اور مشی گن میں اسٹیونس کی روجرز کی حمایت (https://niazitvnews.com/?p=3364) بھی پڑھیں۔

ماخذ: اے ایف پی، رائٹرز، آؤٹ لک انڈیا لائیو اپ ڈیٹس اور انڈین ایکسپریس، 3 نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *