پاکستان کا پہلا بایوماس پلانٹ سجاول میں فعال

0

پاکستان کا پہلا بایوماس توانائی مظاہرتی پلانٹ سندھ کے ضلع سجاول میں فعال ہو گیا ہے۔ یہ پلانٹ دیہی علاقوں میں روزگار کو سہارا دے گا، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائے گا اور جنگلاتی وسائل پر دباؤ کم کرے گا۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی اور سندھ حکومت نے مشترکہ طور پر اس پلانٹ کا افتتاح کیا ہے۔

پلانٹ کہاں اور کس منصوبے کے تحت بنا

یہ پلانٹ سجاول کے پنہ ریزروڈ فارسٹ میں قائم کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ گلوبل انوائرمنٹ فیسلٹی کے مالی تعاون سے چلنے والے پروموشن اینڈ ایپلی کیشن آف سسٹین ایبل بایوماس انرجی ٹیکنالوجیز ان پاکستان یعنی پاسبیٹ منصوبے کے تحت بنا ہے۔ اس منصوبے پر یو این ڈی پی وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ پاسبیٹ پانچ سالہ منصوبہ ہے جس پر 35 لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس کا مقصد پائیدار بایوماس توانائی کی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا ہے تاکہ دیہی معاش کو سہارا ملے، گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم ہو اور جنگلاتی وسائل پر دباؤ گھٹے۔ یہ منصوبہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں چلایا جائے گا۔ سجاول کا پلانٹ اس منصوبے کے تحت بننے والے چار مظاہرتی مقامات میں سے پہلا ہے جو قابل توسیع لکڑی پر مبنی بایوماس ٹیکنالوجیز کو دکھائے گا۔

مقامی باقیات سے صاف ایندھن کیسے بنے گا

یو این ڈی پی کے بیان کے مطابق پنہ ریزروڈ فارسٹ یہ دکھاتا ہے کہ جنگلاتی اور زرعی باقیات سے پیلٹ کی تیاری، کمیونٹی نرسریوں اور موثر چولہوں کے ذریعے روزگار کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام پائیدار جنگلاتی انتظام کو سہارا دیتا ہے اور مقامی شجرکاری کو بہتر بناتا ہے۔ یو این ڈی پی کے پاکستان میں ریزیڈنٹ نمائندے ڈاکٹر سیموئل رزق نے کہا کہ پاکستان کو دیہی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور جنگلات کے تحفظ کے درمیان انتخاب نہیں کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق یہ پلانٹ دکھاتا ہے کہ مقامی طور پر دستیاب باقیات کو صاف ایندھن، مقامی مواقع اور زیادہ پائیدار توانائی کے ماڈل میں کیسے بدلا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اصل کام اس ماڈل کو بڑے پیمانے پر کامیاب بنانا ہے جس میں کمیونٹیز، حکومت اور مارکیٹیں مل کر آگے بڑھیں۔

دیہی علاقوں اور ماحول کے لیے کیا فائدہ ہوگا

پاکستان کے دیہی علاقوں میں لکڑی اور دیگر روایتی ایندھن پر انحصار جنگلات کی کٹائی اور فضائی آلودگی کا بڑا سبب ہے۔ بایوماس ٹیکنالوجی میں جنگلاتی اور زرعی باقیات کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں پیلٹ اور موثر چولہوں کے ذریعے صاف ایندھن میں بدلا جاتا ہے۔ اس سے گھروں میں دھواں کم ہوتا ہے، جنگلات پر دباؤ گھٹتا ہے اور مقامی لوگوں کو پیلٹ بنانے اور نرسریوں کے کام سے آمدنی ملتی ہے۔ سندھ میں اس منصوبے کی شروعات اس لیے بھی اہم ہے کہ صوبے میں دیہی توانائی اور جنگلات کے تحفظ دونوں چیلنج ہیں۔ اگر یہ ماڈل سجاول میں کامیاب رہا تو اسے پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی پھیلایا جا سکے گا جہاں اسی طرح کی باقیات اور دیہی توانائی کی ضروریات موجود ہیں۔

پاکستان کی توانائی میں بایوماس کی جگہ

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جس سے درآمدی بل اور مہنگائی بڑھتی ہے۔ مقامی بایوماس وسائل سے توانائی پیدا کرنا درآمدات پر انحصار کم کرنے کا ایک راستہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں قومی گرڈ تک رسائی محدود ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق بایوماس منصوبوں کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ باقیات کی فراہمی پائیدار ہو، مقامی کمیونٹیز کو فائدہ پہنچے اور جنگلات کی بحالی کے ساتھ ساتھ چلے۔ سجاول کے پلانٹ کو اسی اصول پر مظاہرتی منصوبے کے طور پر بنایا گیا ہے تاکہ اس کے نتائج دیکھ کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا جا سکے۔ سندھ اور ماحولیات سے متعلق ہماری دیگر خبروں میں کراچی میں آج بجلی کی بندش (https://niazitvnews.com/?p=3358) اور لاہور سموگ کی تازہ صورتحال (https://niazitvnews.com/?p=3409) بھی پڑھیں۔

ماخذ: ڈان، 3 نومبر 2026 کی رپورٹ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *