مغربی صحارا: اقوام متحدہ کا امن مشن 35 سال بعد ختم

0

اقوام متحدہ کا مغربی صحارا میں 35 سال سے قائم امن مشن ختم ہو گیا ہے، کیونکہ سلامتی کونسل اس کے مینڈیٹ کی تجدید پر اتفاق نہیں کر سکی۔ یکم نومبر سے مشن کے خاتمے کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے دوران اثاثے واپس بھیجے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کے مطابق مشن کی جگہ ایک چھوٹی ٹیم آپریشنل سپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت اثاثوں کی واپسی اور سامان کی تلفی کی نگرانی کرے گی۔ گوتریش نے خبردار کیا ہے کہ امن مشن کے خاتمے کے بعد متنازع علاقے میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔

سلامتی کونسل میں تعطل کیسے پیدا ہوا

سلامتی کونسل میں امریکہ نے ایک مسودہ قرارداد پیش کی تھی، جس میں مغربی صحارا کے لیے مراکش کے خود مختاری کے منصوبے کو مذاکرات کی بنیاد بنانے اور مشن کا نام تبدیل کر کے اس میں سے “ریفرنڈم” کا لفظ نکالنے کی تجویز تھی۔ اس مسودے کو 15 میں سے 11 اراکین کی حمایت حاصل تھی، تاہم روس نے اسے ویٹو کر دیا۔

اس کے بعد روس نے اپنا مسودہ پیش کیا، جس میں مشن کے موجودہ مینڈیٹ میں ایک سال کی توسیع کی تجویز تھی۔ اسے صرف تین ووٹ ملے، امریکہ نے مخالفت کی اور 11 اراکین نے ووٹ میں حصہ نہیں لیا، اس لیے یہ منظوری کے لیے درکار نو ووٹ حاصل نہ کر سکا۔ یوں مشن کا مینڈیٹ 31 اکتوبر کی آدھی رات کو ختم ہو گیا۔

پاکستان نے دونوں مسودوں پر ووٹ نہیں دیا

اردو پوائنٹ کے مطابق پاکستان نے دونوں مسودوں پر ووٹ نہیں دیا اور باہمی طور پر قابل قبول سیاسی حل پر زور دیا، جس میں مذاکرات اور اتفاق رائے کے ذریعے عوام کے حق خود ارادیت کا تحفظ ہو۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اپنے بیان میں کہا کہ مشن کا خاتمہ صحراوی عوام کے حق خود ارادیت کو ختم نہیں کرتا، اور اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے ذاتی ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا کے ذریعے پرامن حل کے لیے کام جاری رکھے گی۔

مشن کی 35 سالہ تاریخ

مغربی صحارا میں اقوام متحدہ کا مشن، جسے منورسو کہا جاتا ہے، 1991 میں قائم ہوا تھا۔ اس کا مقصد جنگ بندی کی نگرانی اور علاقے کے مستقبل پر ریفرنڈم کی تیاری تھی۔ تاہم یہ ریفرنڈم کبھی نہیں ہو سکا، کیونکہ مراکش اور پولیساریو فرنٹ اس بات پر متفق نہ ہو سکے کہ ووٹ میں کون حصہ لے سکتا ہے۔

2020 میں جنگ بندی ٹوٹ گئی تھی اور اس کے بعد سے علاقے میں نچلی سطح کی جھڑپیں جاری ہیں۔ مشن کے خاتمے کے وقت اس کے پاس تقریباً دو سو شہری اور فوجی اہلکار، نو ٹیم سائٹس اور الجزائر کے شہر تندوف میں ایک رابطہ دفتر تھا۔ مشن کے 35 سالہ دور میں 20 اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

آگے کیا ہوگا

اقوام متحدہ کے مطابق مشن کا خاتمہ سفارتی عمل کا خاتمہ نہیں ہے۔ مغربی صحارا کا تنازع سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر برقرار رہے گا، تاہم فوری طور پر کسی متبادل نگرانی مشن یا ریفرنڈم کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ علاقے میں استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ اب جنگ بندی کی نگرانی کے لیے کوئی غیر جانبدار فوجی موجودگی نہیں رہے گی۔

مزید تفصیل کے لیے پڑھیں: اقوام متحدہ میں پاکستان کی قرارداد، بھارت اسرائیل مخالف (https://niazitvnews.com/?p=3456) اور سوڈان ایتھوپیا ڈرون حملے: اقوام متحدہ میں شکایت (https://niazitvnews.com/?p=3473)

ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس، الجزیرہ، اردو پوائنٹ اور دیگر ذرائع کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *