سوڈان ایتھوپیا ڈرون حملے: اقوام متحدہ میں شکایت

0

سوڈان کی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ ایتھوپیا کی سرزمین سے ریپڈ سپورٹ فورسز کے ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں، اور اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور افریقی یونین کی امن و سلامتی کونسل میں باضابطہ شکایات درج کرا دی گئی ہیں۔ سوڈانی حکومت کے مطابق یہ حملے شہری مقامات اور بجلی گھروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

شکایت میں کیا کہا گیا

سوڈانی وزارت خارجہ اور فوجی انٹیلی جنس کی تیار کردہ ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق فروری سے اکتوبر کے درمیان ایتھوپیا کی سرزمین سے 70 الگ حملوں میں 187 یک طرفہ حملہ آور ڈرونز داغے گئے۔ اکتوبر میں حملوں کی شدت بڑھی، جب 28 حملوں میں 97 ڈرونز استعمال ہوئے۔

سوڈان کی عبوری خودمختاری کونسل سے منسلک ایک رپورٹ کے مطابق 15 فروری سے 27 اکتوبر کے درمیان ڈرون حملوں میں 176 سوڈانی فوجی اور 484 شہری ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں مغربی ایتھوپیا میں اسوسا ہوائی اڈے، کرمک گزین سرحدی علاقے اور امہارا میں بحر دار ایئربیس کو ڈرون حملوں کے مبینہ لانچ مقامات کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ یہ تمام الزامات سوڈانی حکومت کی طرف سے ہیں اور ایتھوپیا ان کی تردید کرتا ہے۔

شہری نقصان اور عالمی ردعمل

سوڈان میں اپریل 2023 سے سوڈانی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ جاری ہے، جس سے تقریباً 13 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور ہزاروں کو قحط کا خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ہفتے کو جنگ میں ڈرونز کے استعمال پر افسوس کا اظہار کیا اور شہریوں پر اس کے تباہ کن اثرات کی مذمت کی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 3 اکتوبر کو ایتھوپیا کی سرحد کے قریب واد الماہی میں بے گھر خاندانوں پر ڈرون حملے میں 26 خواتین اور 4 بچے ہلاک ہوئے، جبکہ 26 اکتوبر کو دارفور کے علاقے نیالا میں ایک اور ڈرون حملے میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔

ایتھوپیا کا موقف اور پرانا تنازع

ایتھوپیا نے سوڈانی حکومت کے الزامات کی تردید کی ہے اور جواب میں سوڈانی حکومت پر ٹگرے پیپلز لبریشن فرنٹ سے منسلک باغیوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ سوڈانی سرحدی امور کے ماہر عبدالکریم الامین احمد نے الجزیرہ کو بتایا کہ سوڈانی فوج کے اندر کچھ آوازیں ایتھوپیا کے خلاف جنگ کے اعلان کا مطالبہ کر رہی ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق دونوں ملکوں کے رہنما محاذ کو پھیلانے کے تباہ کن نتائج سے آگاہ ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی صرف ڈرون حملوں تک محدود نہیں۔ نیل دریا پر ایتھوپیا کے تعمیر کردہ گرینڈ ایتھوپین رینیسانس ڈیم پر بھی دیرینہ اختلاف ہے، جسے مصر اور سوڈان اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سوڈانی فوج ایتھوپیا کے خلاف دوسرا محاذ کھولتی ہے تو اسے دو محاذوں پر لڑنا پڑے گا، جو اس کے حق میں نہیں ہوگا۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں جنگوں اور امن مذاکرات پر توجہ مرکوز ہے، جن میں یوکرین کے امدادی مرکز پر حملہ اور ایران کے جزیرہ قشم پر خفیہ حملے کی خبریں بھی شامل ہیں۔ سوڈان ایتھوپیا تنازع کا اگلا مرحلہ اقوام متحدہ اور افریقی یونین میں ان شکایات پر ہونے والی کارروائی سے طے ہوگا۔

ذرائع: الجزیرہ — 3 نومبر 2026۔ نوٹ: ڈرون حملوں میں ایتھوپیا کی مدد کا الزام سوڈانی حکومت کا دعویٰ ہے، ایتھوپیا اس کی تردید کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *