مسٹر پٹلو کو 10 نومبر تک حفاظتی ضمانت مل گئی

0

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹک ٹاکر محمد انصر جٹ عرف مسٹر پٹلو کو سیالکوٹ بھگدڑ کیس میں 10 نومبر تک حفاظتی ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے متعلقہ پولیس کو اس مدت کے دوران ملزم کی گرفتاری سے روک دیا ہے اور انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ وقت سے پہلے متعلقہ عدالت سے رجوع کریں۔

عدالت میں پیشی، وہیل چیئر پر آمد

منگل 3 نومبر کو مسٹر پٹلو اپنے وکیل بیرسٹر قاسم نواز عباسی اور بیرسٹر راجہ علی عباس کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق وہ وہیل چیئر پر عدالت لائے گئے اور چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کے چیمبر میں پیش کیے گئے۔ سماعت مختصر رہی اور عدالت نے حفاظتی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔ حفاظتی ضمانت، جسے عبوری ضمانت بھی کہا جاتا ہے، ایک عارضی ریلیف ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم مقدمے سے بری ہو گیا ہے یا اس پر لگے الزامات ختم ہو گئے ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ملزم کو گرفتاری کے خوف کے بغیر متعلقہ عدالت تک پہنچنے کا موقع مل جائے۔

وکیل کے دلائل اور پولیس مقابلے کا خدشہ

سماعت کے دوران وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مہندی کی تقریب کے لیے باقاعدہ این او سی حاصل کیا گیا تھا اور امن و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری تھی۔ وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ واقعے کے وقت مسٹر پٹلو موقع پر موجود نہیں تھے بلکہ اسپتال میں زیر علاج تھے۔ وکیل نے عدالت کے سامنے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ان کے موکل کو مبینہ طور پر پولیس مقابلے کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ خدشہ وکیل کے دلائل کا حصہ تھا، اس بارے میں عدالت کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی اس الزام کی آزادانہ تصدیق ہوئی ہے، اس لیے اسے صرف ایک دعوے کے طور پر ہی پیش کیا جا رہا ہے۔

سیالکوٹ بھگدڑ کا پس منظر

یہ مقدمہ سیالکوٹ میں ڈسکہ روڈ پر فراز کرکٹ گراؤنڈ میں ہونے والی مہندی کی تقریب سے جڑا ہے۔ مسٹر پٹلو نے سوشل میڈیا پر تقریب اور انعامی تقسیم کا اعلان کیا تھا جس میں کار اور موٹر سائیکلوں سمیت بڑے انعامات کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تقریب کے دوران گیٹ کھلنے پر بھگدڑ مچ گئی جس میں ڈان کی رپورٹ کے مطابق دو افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہو گئے تھے۔ موٹرا پولیس اسٹیشن میں 31 اکتوبر کو مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں مسٹر پٹلو، ان کے بھائی، گراؤنڈ کے مالک، چھ دیگر افراد اور 40 سے 45 نامعلوم سیکیورٹی گارڈز کو نامزد کیا گیا تھا۔ مقدمے میں قتل خطا، فساد، غیر قانونی اجتماع اور سرکاری حکم کی خلاف ورزی سمیت متعدد دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق اس کیس میں پہلے چھ ملزمان گرفتار بھی کیے جا چکے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

حفاظتی ضمانت کے بعد اب مسٹر پٹلو کو 10 نومبر سے پہلے متعلقہ عدالت میں پیش ہو کر مزید قانونی ریلیف حاصل کرنا ہوگا۔ اگر وہ مقررہ مدت میں متعلقہ عدالت سے رجوع نہ کر سکے تو حفاظتی ضمانت کا تحفظ ختم ہو جائے گا۔ دوسری طرف پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری پہلے کہہ چکی ہیں کہ شادی کی تقریبات کو حد سے زیادہ شاندار بنانے اور بڑے انعامی اعلان نے ہزاروں افراد کو ایک جگہ جمع کر دیا تھا جس سے یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

مزید پڑھیں:
https://niazitvnews.com/?p=3356
https://niazitvnews.com/?p=3285

ماخذ: ڈان، ڈیلی پاکستان، آج نیوز، دنیا نیوز، اردو پوائنٹ — 3 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *